اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس سینیٹر انوشہ رحمٰن کی زیر صدارت پیر کو منعقد ہوا ۔ اجلاس میں اہل خواتین کاروباری شخصیات کو قومی اور بین الاقوامی نمائش میں شرکت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر بات چیت کی گئی ۔ کمیٹی کی سابقہ سفارشات کی تعمیل کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی …
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس سینیٹر انوشہ رحمٰن کی زیر صدارت منعقد

مزید خبریں
اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس سینیٹر انوشہ رحمٰن کی زیر صدارت پیر کو منعقد ہوا ۔ اجلاس میں اہل خواتین کاروباری شخصیات کو قومی اور بین الاقوامی نمائش میں شرکت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر بات چیت کی گئی ۔
کمیٹی کی سابقہ سفارشات کی تعمیل کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے کمیٹی کو بتایا کہ خواتین کاروباریوں کے لیے ہوائی کرایہ پر دی جانے والی سبسڈی کو 50 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ خواتین انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیا جا سکے۔سینیٹر طلحہ محمود کے استفسار پر چترالی خواتین کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں سی ای او نے بتایا کہ ٹی ڈی اے پی نے مسلسل دو سالوں سے ایک ایکسپو کا انعقاد کیا ہے اور بہت سی خواتین نے اپنی مصنوعات کی نمائش کی۔
سینیٹر محمود نے ٹی ڈی اے پی پر زور دیا کہ وہ اس علاقے کی محروم خواتین کی سہولت کے لیے اس علاقے میں ایک الگ دفتر قائم کرے۔ٹی ڈی اے پی کے سی ای او نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹی ڈی اے پی کے ذریعے کل 34 خواتین کاروباریوں کو بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کی سہولت فراہم کی گئی،خواتین کاروباریوں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے قابل بنانے کے لیے آگاہی پروگرام بھی منعقد کیے ہیں۔کمیٹی نے خواتین کاروباریوں کے لیے کم از کم پہلے 10 ایونٹس کے لیے سبسڈی کو 80 فیصد تک بڑھانے کی سفارش کی۔ وزارت تجارت نے بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ میکانزم پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ جس میں بتایا گیا کہ حالیہ دورے کے دوران تہران میں مجموعی طور پر 200 بی ٹو بی ملاقاتیں ہوئیں جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف اشیاء کی برآمدات کے مختلف شعبہ جات کی نشاندہی کی گئی۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کمیٹی کو بتایا کہ رسمی بینکنگ چینلز کے ذریعے لین دین تجارتی سودوں کو انجام دینے کے دوران تاجر برادری کو درپیش ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اس بات پر زور دیا کہ ہموار بینکنگ چینلز ہر کاروبار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ایران روایتی بینکاری نظام کے ذریعے موثر طریقے سے کام کرنے سے قاصر ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ایرانی حکومت سرحدی علاقوں میں مشترکہ تجارتی منڈی قائم کرنے پر آمادہ ہے تاکہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ وزیر تجارت نے کہا کہ ایران کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے، جسے آنے والے مہینوں میں حتمی شکل دینے کی امید ہے۔
کمیٹی کو سیکرٹری وزارت تجارت نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کے برآمدات پر مرکوز پالیسی اقدامات پر بریفنگ دی جس کا مقصد قومی برآمدات کو بڑھانا ہے۔ اجلاس میں چیئرپرسن نے ورکنگ گروپس کی پیش رفت کے بارے میں دریافت کیا جس کے جواب میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر نو ورکنگ گروپس مختلف پیش رفتوں کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور پاکستان کی برآمدی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
چیئرپرسن نے اس بات پر زور دیا کہ برآمد کنندگان کی مدد کے لیے اقتصادی زونز کو مکمل طور پر فعال اور مناسب طریقے سے سہولت فراہم کی جانی چاہیے اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے کاروبار دوست پالیسیاں بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، محمد طلحہ محمود، امیر ولی الدین چشتی، بلال احمد خان، فیصل سلیم رحمان اور سرمد علی، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، سیکرٹری وزارت تجارت، سی ای او ٹی ڈی اے پی اور مختلف محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔







