وفاقی وزیرِ خزانہ سے مشیرِ خزانہ خیبر پختونخوا کی ملاقات، مالی اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے منگل کو وزارتِ خزانہ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزارتِ خزانہ اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔ملاقات کے دوران مالی اور ترقیاتی امور سے متعلق مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں ضم شدہ اضلاع کے لیے ترقیاتی …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے منگل کو وزارتِ خزانہ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزارتِ خزانہ اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔ملاقات کے دوران مالی اور ترقیاتی امور سے متعلق مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں ضم شدہ اضلاع کے لیے ترقیاتی مدات کے تحت فنڈز کے بروقت اجراء، عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی اور معاونت سے متعلق بقایاجات، اور صوبائی حقوق و وسائل کی تقسیم کے مجموعی فریم ورک، بشمول نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) سے متعلق امور شامل تھے۔

خیبر پختونخوا کی ٹیم نے ضم شدہ اضلاع میں انتظامی اور ترقیاتی ضروریات پر روشنی ڈالی اور جاری منصوبوں کے تسلسل اور زمینی سطح پر فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے فنڈز کے بروقت اور قابلِ پیش گوئی اجراء کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بے گھر خاندانوں سے متعلق واجب الادا ذمہ داریوں اور دیگر متعلقہ امور کی بھی نشاندہی کی جن کے لیے مؤثر رابطہ کاری اور فوری حل درکار ہے۔وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات نے خیبر پختونخوا کے وفد کی جانب سے اٹھائے گئے امور کو توجہ سے سنا اور وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کے ساتھ باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت اور تعمیری روابط کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کی ٹیم کو یقین دلایا کہ وزارتِ خزانہ این ایف سی اور اجلاس میں زیرِ بحث آنے والے دیگر متعلقہ مدات کے تحت صوبے کے جائز مالی حقوق اور واجبات کے حصول کے لیے، مروجہ قواعد، طے شدہ فریم ورک اور قانونی تقاضوں کے مطابق، مکمل تعاون فراہم کرے گی۔وفاقی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ فنڈز کے شفاف اور ہموار اجراء کے لیے مؤثر رابطہ کاری اور جہاں ضروری ہو بروقت حسابات کی تطبیق نہایت اہم ہے، اور اس بات کی نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع کو درپیش منفرد ترقیاتی اور سکیورٹی چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے۔

ملاقات میں این ایف سی سے متعلق جاری کام اور مشاورت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں تکنیکی سطح پر مذاکرات اور ذیلی گروپس کے اجلاسوں کو جاری رکھنے اور اہم امور پر اتفاقِ رائے کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ متعلقہ فورمز اور تکنیکی ذرائع کے ذریعے قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ زیرِ التوا معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے اور مالی انتظامات اور فنڈز کے اجراء کو ترقیاتی اہداف، عوامی خدمات کی فراہمی اور استحکام کے لیے مؤثر بنایا جا سکے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں قومی مفاد میں مسائل کے بروقت حل کے لیے باہمی تعاون اور مسلسل رابطے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔