بلوچستان کا مسئلہ سیاسی بصیرت اور ماضی کے کامیاب تجربات کی روشنی میں حل کرنے کی ضرورت ہے، اعجاز الحق

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمد اعجاز الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ دہائیوں پر محیط ہے، جسے صرف طاقت نہیں بلکہ سیاسی بصیرت اور ماضی کے کامیاب تجربات کی روشنی میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے صوبے کی محرومیوں کے خاتمے اور بیرونی مداخلت کے …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمد اعجاز الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ دہائیوں پر محیط ہے، جسے صرف طاقت نہیں بلکہ سیاسی بصیرت اور ماضی کے کامیاب تجربات کی روشنی میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے صوبے کی محرومیوں کے خاتمے اور بیرونی مداخلت کے سدِباب کے لیے جامع حکمت عملی کا مطالبہ کیا۔ محمد اعجاز الحق نے ایوان کو یاد دلایا کہ 1973 کے بعد پیدا ہونے والی انسرجنسی کے دوران شدید جانی نقصان ہوا، لیکن 1977 کے بعد جب ایمنسٹی (عام معافی) کا اعلان کیا گیا اور ناراض بلوچ رہنماؤں کو سیاسی عمل میں واپس لایا گیا، تو اس کے نتیجے میں 11 سال تک صوبے میں مثالی امن رہا۔

انہوں نے کہا کہ اسی دور میں کوئٹہ تک سوئی گیس پہنچائی گئی اور لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پورے پاکستان سے بہتر تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ماضی میں ان لوگوں کو کیسے انگیج کیا گیا اور ان سے کیسے بات چیت کی گئی۔ سکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن ملک بھارت براہِ راست حملے میں ناکامی کے بعد اب افغانستان کے راستے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی تنظیموں کے ذریعے پراکسی وار لڑ رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے اندر آج بھی دشمن کے ایجنٹ موجود ہو سکتے ہیں جو دہشت گردوں کو جدید ترین کمیونیکیشن، ایمونیشن اور نائٹ ویژن گوگلز جیسے مہنگے آلات فراہم کر رہے ہیں۔ اعجاز الحق نے سرحد پار سے تیل کی غیر قانونی تجارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر لاکھوں لیٹر تیل سرحد سے نکل کر ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچ رہا ہے، تو ہمیں اپنے انتظامی ڈھانچے کی کمزوریوں پر غور کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس انسرجنسی کے پیچھے معاشی مفادات بھی چھپے ہوئے ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔ خطاب کے آغاز میں انہوں نے اتنے اہم موضوع پر بحث کے دوران وزراء کی ایوان سے عدم موجودگی پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے لیڈر آف دی اپوزیشن کی جانب سے بلوچستان کی محرومیوں کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ گیس اور دیگر وسائل پر مقامی عوام کے حق کو تسلیم کیے بغیر اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔