پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ویکسین سازی میں تعاون پر اہم مشاورت کا آغاز

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، منسٹر آف انڈسٹری کے سینئر ایڈوائزر نزار الحریری کی قیادت میں پاکستان پہنچ گیا ہے، جہاں ویکسین سازی میں دوطرفہ تعاون پر اہم مشاورت کا آغاز ہو گیا۔وفد کا استقبال وزارتِ صحت اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام نے کیا۔ وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دورے کے موقع پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، منسٹر آف انڈسٹری کے سینئر ایڈوائزر نزار الحریری کی قیادت میں پاکستان پہنچ گیا ہے، جہاں ویکسین سازی میں دوطرفہ تعاون پر اہم مشاورت کا آغاز ہو گیا۔وفد کا استقبال وزارتِ صحت اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام نے کیا۔ وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دورے کے موقع پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی قیادت میں وزارتِ صحت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ باضابطہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے موجودہ صورتحال، مستقبل کی قومی ضروریات، دستیاب انفراسٹرکچر اور متعلقہ صلاحیتوں پر تفصیلی پریزنٹیشنز دی گئیں۔

وزارتِ صحت کے ماتحت اداروں کے سربراہان، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر قومی ادارہ صحت نے وفد کو بریفنگ دی۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ہیلتھ منسٹرز کے ساتھ ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جبکہ سعودی منسٹر آف انڈسٹری سے بھی اس موضوع پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، جہاں ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ اگر موازنہ کیا جائے تو پاکستان ہر سال نیوزی لینڈ کے برابر آبادی کا اضافہ کر رہا ہے۔وزیر صحت نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے، تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں کی جاتی اور تمام ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کی جاتی ہیں، جس پر سالانہ تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویکسین کی لاگت کا 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار ادا کرتے ہیں جبکہ 51 فیصد حکومتِ پاکستان خود برداشت کرتی ہے، جس کے باعث فی الحال مالی بوجھ نسبتاً کم ہے۔ تاہم 2031 کے بعد بین الاقوامی شراکت داروں کی امداد ختم ہو جائے گی اور حکومت کو ویکسین کی مکمل لاگت اپنی معیشت سے برداشت کرنا ہو گی۔مصطفیٰ کمال کے مطابق اگر مقامی سطح پر ویکسین تیار نہ کی گئیں تو 2031 تک سالانہ لاگت بڑھ کر 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے،

جو قومی معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہو گا۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارتِ صحت نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں اور پاکستان میں 13 بیماریوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے عملی پیش رفت کی جا رہی ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ صحت کے شعبے میں پاکستان اور سعودی عرب کا اشتراک نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثال بنے گا۔

مزید خبریں