پی ٹی آئی کے بانی ایک سزا یافتہ قیدی ہیں، انہیں قانون اور جیل قواعد کے عین مطابق تمام طبی اور قانونی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے منگل کے روز سینیٹ کو بتایا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی ایک سزا یافتہ قیدی ہیں اور انہیں قانون اور جیل قواعد کے عین مطابق تمام طبی اور قانونی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔قائد حزب اختلاف کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون نے …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے منگل کے روز سینیٹ کو بتایا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی ایک سزا یافتہ قیدی ہیں اور انہیں قانون اور جیل قواعد کے عین مطابق تمام طبی اور قانونی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔قائد حزب اختلاف کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ آئین ہر فرد کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے تاہم ان حقوق کے نفاذ کے لیے قانونی طریقۂ کار مقرر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی کو نیب کے ایک بدعنوانی کے مقدمے میں ایک سال سے زائد عرصے پر مشتمل کھلی سماعت کے بعد سزا سنائی گئی اور وہ اس وقت زیر سماعت نہیں بلکہ سزا یافتہ قیدی کے طور پر اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ سابق وزیراعظم ایک اور ریفرنس میں بھی سزا یافتہ ہیں جس میں ایک زیورات کے سیٹ کی کم قیمت ظاہر کی گئی، حالانکہ اس کی مالیت کروڑوں روپے تھی جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں سابق وزیرِ اعظم کو آنکھوں کے علاج کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پمز اسلام آباد کا ایک نمایاں سرکاری سطح کا جدید طبی ادارہ ہے جہاں ایک میڈیکل بورڈ نے مریض کا معائنہ کیا، ضروری انجیکشن لگایا اور علاج میں بہتری نوٹ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تشخیص اور علاج کی تفصیلات پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے باضابطہ پریس بریفنگ کے ذریعے جاری کی گئیں۔وفاقی وزیر نے سینیٹ کو یقین دہانی کرائی کہ اگر آئندہ کسی بھی قسم کی مزید طبی ضرورت پیش آئی تو قانون کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت انسانی حقوق کا مکمل احترام کرتی ہے اور کبھی کسی قیدی کو علاج سے محروم رکھنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔اعظم نذیر تارڑ نے زور دیا کہ طبی سہولیات، ملاقاتوں یا جیل کی دیگر شرائط سے متعلق کسی بھی اضافی ریلیف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جانا چاہیے جو اس معاملے میں مجاز اپیل فورم ہے۔

مزید خبریں