اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات، انصاف تک مؤثر اور بروقت رسائی، اور شمولیتی نظامِ انصاف کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لئے بار اور بنچ کے درمیان مسلسل اور بامقصد مکالمہ ناگزیر ہے۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے یہ بات پاکستان بار کونسل، صوبائی بار کونسلز اور …
عدالتی اصلاحات، انصاف تک مؤثر اور بروقت رسائی اور شمولیتی نظامِ انصاف کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات، انصاف تک مؤثر اور بروقت رسائی، اور شمولیتی نظامِ انصاف کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لئے بار اور بنچ کے درمیان مسلسل اور بامقصد مکالمہ ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے یہ بات پاکستان بار کونسل، صوبائی بار کونسلز اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قیادت سے ملاقات کے دوران کہی جو عدالتی نظام میں اصلاحات سے متعلق جاری سٹیک ہولڈرز مشاورتی عمل کا حصہ تھی۔چیف جسٹس نے نومنتخب بار نمائندگان کو مبارکباد دیتے ہوئے نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے اہم فیصلوں سے آگاہ کیا جن میں جبری گمشدگیوں کے معاملات پر ادارہ جاتی ردعمل، ججز پر کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ سے تحفظ، کمرشل لٹیگیشن کوریڈور کا قیام اور فوری انصاف کی فراہمی کے لئے ماڈل سول اور فوجداری ٹرائل کورٹس کا قیام شامل ہے۔
انہوں نے عدالتی اصلاحات کے دیگر نمایاں اقدامات پر بھی روشنی ڈالی جن میں 13 اقسام کے مقدمات کے لئے مقررہ مدت میں فیصلوں کا نظام، ڈبل ڈاکٹ کورٹ ریجیم، عدالت سے منسلک ثالثی (کورٹ اینیکسڈ میڈی ایشن)، پروفیشنل ایکسیلینس انڈیکس، ججز کی تقرری اور تربیت کے معیاری طریقہ کار، بائیومیٹرک کیس ویریفکیشن، زیرِ سماعت قیدیوں اور گواہوں کے لئے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اخلاقی رہنما اصول اور عدالتی فلاح و بہبود کے اقدامات شامل ہیں۔
انصاف تک رسائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت ترجیحی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن میں عدالتوں کی سولرائزیشن، ای لائبریریز کا قیام، خواتین کے لئے سہولت مراکز اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل اگست 2026 تک متوقع ہے۔اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد مسعود چشتی اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی منیر احمد ملک، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان، خیبر پختونخوا بار کونسل کے وائس چیئرمین اسفند یار خان اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ملک عماد اعظم، بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین جدین داشتی اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ایاز خان مندوخیل شریک ہوئے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون الرشید اور سیکرٹری ملک زاہد اسلم اعوان بھی اجلاس میں موجود تھے، جبکہ سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین اشتیاق احمد میمن نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان اور سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان بھی اجلاس میں شریک تھے، جبکہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے ایڈیشنل ریزیڈنٹ سیکرٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔بار نمائندگان نے عدالتی اصلاحات کے عمل کو سراہتے ہوئے نوجوان وکلاء کی استعداد کار بڑھانے پر زور دیا۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے تحت جاری کنٹینیونگ لیگل ایجوکیشن پروگرامز کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوان وکلاء کے لیے خصوصی آن لائن کورس متعارف کرانے کا اعلان کیا۔چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ اور بار کے درمیان یہ مشاورتی عمل آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔
انہوں نے بار کونسلز کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سال کے لئے ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت ترجیحی ضروریات کی نشاندہی کریں جبکہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے ایڈیشنل ریزیڈنٹ سیکرٹریز کو تمام بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ مساوی سلوک یقینی بنانے اور بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔








