اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):پاکستان میں قانون کی تعلیم اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قومی کانفرنس منگل کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں ججوں، وکلاء، ماہرین قانون، اساتذہ، طلبہ اور لیگل ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس میں معیار تعلیم، نصاب کی بہتری، نوجوان وکلاء کی رہنمائی اور عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی غور کیا …
پاکستان میں قانونی تعلیم اور پیشہ ورانہ معیار کی بہتری کے لیے قومی کانفرنس، ججوں، وکلاء، ماہرین قانون، اساتذہ، طلبہ اور لیگل ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کی شرکت

مزید خبریں
اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):پاکستان میں قانون کی تعلیم اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قومی کانفرنس منگل کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں ججوں، وکلاء، ماہرین قانون، اساتذہ، طلبہ اور لیگل ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس میں معیار تعلیم، نصاب کی بہتری، نوجوان وکلاء کی رہنمائی اور عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی غور کیا گیا۔یہ کانفرنس ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء (آر ایس آئی ایل) نے پاکستان بار کونسل کی ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن (پی بی سی-ڈی ایل ای) کے اشتراک سے پاکستان میں قانونی تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل کا مستقبل: جدت، معیار اور اثرات کے عنوان سے منعقد کی جس میں ملک بھر سے 200 سے زائد شرکا نے شرکت کی کانفرنس میں تین بنیادی موضوعات زیر بحث آئے جن میں قانون کے طلبہ کی تربیت میں بہتری، وکلاء اور ججوں کے لیے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کے نظام کو مضبوط بنانا اور موجودہ دور کے اہم چیلنجز جیسے قانونی اخلاقیات، عدالتی آداب، کام کی جگہ پر ہراسانی اورٹیکنالوجی کے موثر استعمال شامل تھے۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے دو سالہ انگریزی ایل ایل بی پروگرام محدود وسائل کے باوجود قابل وکلاء تیار کرتے تھے تاہم بعد ازاں تین اور پانچ سالہ پروگرامز، نجی شعبے میں بے ہنگم توسیع اور الحاق شدہ لاء کالجز کے باعث قانونی تعلیم کے معیار میں کمی واقع ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ اصلاحات، جن میں نئے لاء کالجز پر پابندی اور چار سالہ ایل ایل بی پروگرام شامل ہیں، معیار اور استطاعت میں توازن پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے مضبوط نصاب، پیشہ ورانہ تربیت، قانونی اخلاقیات، فیس کے نظام کی نگرانی اور نوجوان وکلاء کی موثر رہنمائی پر زور دیا۔افتتاحی اجلاس میں مختلف اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے پیشہ ورانہ معیار بلند کرنے پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر جج نوید احمد سومرو (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج و سینئر فیکلٹی ممبر سندھ جوڈیشل اکیڈمی)، عامر سعید راون (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و رکن پاکستان بار کونسل)
اسد رحیم خان (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ) اور سحر بندیال (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) نے اظہار خیال کیا۔جج نوید احمد سومرو نے قانونی تعلیم اور جدید عدالتی تقاضوں کے درمیان موجود خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے عملی تربیت، تحقیق اور تخصص کو ناگزیر قرار دیا۔ عامر سعید راون نے منظم اپرنٹس شپ، پیشہ ورانہ معیار کے موثر نفاذ اور مسلسل قانونی تعلیم کے دائرہ کار میں توسیع پر زور دیا۔ سحر بندیال نے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی پہلوئوں اور خواتین وکلاء کو درپیش رکاوٹوں پر روشنی ڈالی جبکہ اسد رحیم خان نے قانونی تعلیم اور پیشہ ورانہ آغاز میں معاشی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے لاء گیٹ کو مضبوط بنانے اور جونیئر وکلاء کے لیے کم از کم وظیفہ مقرر کرنے کی تجویز دی۔کانفرنس کے دوران قانون اور ٹیکنالوجی پر مبنی ایک خصوصی نمائش بھی منعقد کی گئی جہاں وزارتِ قانون و انصاف اور لیگل ٹیکنالوجی کمپنیوں نے جدید ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز کے عملی مظاہرے پیش کیے۔ وزارت قانون نے پاکستان کوڈ اور ڈاکومنٹ ریٹریول سسٹم متعارف کرایا جبکہ اینیبلفائی اے آئی کے بانی شہزار الٰہی نے وکلاء کے لیے اے آئی کے عملی استعمال پر بریفنگ دی۔
ڈیجی لاویئر، اے آئی اٹارنی اور پاکستان لا بوٹ نے بھی اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے براہ راست مظاہرے کیے۔شرکا نے گروپ مباحثوں کے ذریعے لاء سکول کے نصاب کی جدید کاری، بار ووکیشنل کورسز اور مسلسل قانونی تعلیم میں بہتری اور ججوں کے لیے خصوصی و ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت سے متعلق قابل عمل تجاویز تیار کیں، جنہیں متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔وفاقی سیکریٹری وزارت قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر نے عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیجیٹل رپورٹنگ سسٹم اور پاکستان کوڈ کے ذریعے اردو سمیت تازہ قوانین تک عوام اور وکلاء کی آسان رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔اختتامی اجلاس میں احمر بلال صوفی، عاصمہ حمید، منیر احمد ملک اور راجہ نعیم اکبر نے اصلاحات پر موثر عملدرآمد، ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال اور ایک شمولیتی قانونی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اختتامی کلمات میں کہا کہ قانونی پیشہ مسلسل ارتقا پذیر ہے اور جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدت اور ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہو چکاہے۔








