چین پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری، استعداد سازی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، ڈاکٹر حسن داؤد بٹ

اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):سینئر ایڈوائزر انرجی چائنا اور سابق سی پیک پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا ہے کہ چین پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری، استعداد سازی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں گہری دلچسپی رکھتا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور سٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ بدھ کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ …

اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):سینئر ایڈوائزر انرجی چائنا اور سابق سی پیک پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا ہے کہ چین پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری، استعداد سازی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں گہری دلچسپی رکھتا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور سٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔

بدھ کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور چین کے ساتھ تعاون کے ذریعے ان وسائل کو مؤثر، پائیدار اور ذمہ دارانہ انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا کہ چین نہ صرف سرمایہ فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے بلکہ انسانی وسائل کی تربیت، مقامی سطح پر مہارتوں کی ترقی اور جدید کان کنی کی ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی تعاون کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے معدنی شعبے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، لاگت میں کمی آئے گی اور عالمی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی بہتر ہو سکے گی۔انہوں نے پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی معیار کے تعمیراتی اور آپریشنل اصولوں پر عمل درآمد ذمہ دارانہ کان کنی کو یقینی بناتا ہے، جس میں ماحولیاتی تحفظ، مقامی آبادی کی فلاح و بہبود اور قدرتی وسائل کے محتاط استعمال کو ترجیح دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق منصوبہ بندی اور عمل درآمد سے معدنی منصوبے نہ صرف معاشی ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ ماحول پر منفی اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے مزید کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت توانائی، انفراسٹرکچر اور صنعتی تعاون کے بعد معدنی شعبہ ایک نیا اور اہم میدان بن کر ابھر رہا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور قومی معیشت کو طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین مستقبل میں بھی باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور پائیدار ترقی کے اصولوں کے تحت اپنے تعاون کو مزید وسعت دیں گے، تاکہ دونوں ممالک کے عوام یکساں طور پر اس شراکت داری کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔