اردو ادب کی معروف و باکمال ادیبہ و ڈرامہ نویس بانو قدسیہ کی9 ویں برسی منائی گئی

لاہور۔4فروری (اے پی پی):اردو ادب کی معروف و باکمال ادیبہ اور ڈرامہ نویس بانو قدسیہ کی9 ویں برسی منائی گئی۔ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آگئیں۔1951 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی، بانو قدسیہ کا پہلا افسانہ داماندگی شوق1950 میں سامنے آیا، دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ اور اشفاق احمد رشتہ ازدواج …

لاہور۔4فروری (اے پی پی):اردو ادب کی معروف و باکمال ادیبہ اور ڈرامہ نویس بانو قدسیہ کی9 ویں برسی منائی گئی۔ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آگئیں۔1951 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی، بانو قدسیہ کا پہلا افسانہ داماندگی شوق1950 میں سامنے آیا، دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ اور اشفاق احمد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔

انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی پر نصف صدی سے زائد عرصے تک ادبی رنگ بکھیرے ، ناول راجہ گدھ سے بانو قدسیہ کو عالمگیر شہرت ملی، بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل اور حاصل گھاٹ بھی قابلِ ذکر ہیں،

انہوں نے ٹی وی کے لئے کئی سیریل اور ڈرامے تحریر کئے جن میں دھوپ جلی، خانہ بدوش، کلو اور پیا نام کا دیا شامل ہیں، انہوں نے27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے، ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز اور 2010 میں ہلالِ امتیاز سے نوازا۔ بانو قدسیہ 4 فروری2017 کو انتقال کر گئیں۔

مزید خبریں