اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):سروں کی ملکہ ،مشہور مغنیہ ملکہ پکھراج کی برسی بدھ 4 فروری کو منائی گئی۔ملکہ پکھراج 17 اکتوبر 1912 کو جموں کشمیر کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے بچپن میں اپنے اردگرد موسیقی کا ماحول دیکھا۔ گھرانے کے رواج کے مطابق انھیں تین برس کی عمر میں ہی موسیقی کی تربیت کے لیےاستاد بڑے غلام علی خان کے والد استاد علی بخش قصوریہ …
سروں کی ملکہ ،مشہور مغنیہ ملکہ پکھراج کی برسی بدھ کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):سروں کی ملکہ ،مشہور مغنیہ ملکہ پکھراج کی برسی بدھ 4 فروری کو منائی گئی۔ملکہ پکھراج 17 اکتوبر 1912 کو جموں کشمیر کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے بچپن میں اپنے اردگرد موسیقی کا ماحول دیکھا۔ گھرانے کے رواج کے مطابق انھیں تین برس کی عمر میں ہی موسیقی کی تربیت کے لیےاستاد بڑے غلام علی خان کے والد استاد علی بخش قصوریہ کی شاگردی میں دے دیا گیا۔پانچ سال کی عمر میں ملکہ پکھراج نے دلی میں استاد مومن خان ، استاد مولا بخش تلونڈی اور استاد عاشق علی خان سے نرت بھاؤ کی تربیت حاصل کی۔ 9 برس کی عمر میں مہاراجہ ہری سنگھ کی تاجپوشی میں شرکت کی اور گانا بھی گایا۔
ملکہ پکھراج 1940 کی دہائی میں معروف پیشہ ور گلوکاروں میں شامل تھیں اور 1947 میں تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان کے شہر لاہور منتقل ہو گئیں۔ جہاں پر اانہیں ریڈیو پاکستان لاہور سے موسیقار کالے خان کے ساتھ اپنی ریڈیو پرفارمنس کے ذریعے شہرت ملی۔ 1977 میں آل انڈیا ریڈیو کی گولڈن جوبلی پر ملکہ پکھراج کو بھارت مدعو کیا گیا اور لیجنڈ آف وائس ایوارڈ سے نوازا گیا۔1980 میں ملکہ پکھراج کو تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا ، اس کے علاوہ ان کو متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا یا۔
ملکہ پکھراج نے بطور فلمساز چار فلمیں چار دن، ڈاک بنگلہ، کاجل1948 اور شمی بھی بنائیں جبکہ انہوں نے بطور اداکارہ فلم سول میرج میں کام کیا مگر فلم مکمل نہ کی۔ ملکہ پکھراج 4 فروری 2004 کو 90برس کی عمر میں انتقال کرگئیں اور لاہور شاہ جمال کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئیں۔ ان کی برسی کے موقع پر گلوکار، موسیقار برادری اور شو بز انڈسٹری سمیت ان کے مداحوں کی جانب سے انہیں بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔








