اقوام متحدہ۔6فروری (اے پی پی):افریقا سے ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے لاطینی امریکا تک غیر ملکی قبضےکےزیر اثر علاقوں کے لاکھوں مکینوں کے لئے بامعنی ترقی ناممکن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کی تقریب میں مقررین نے کیا جنہوں نے کشمیر اور فلسطین میں ظالمانہ قبضے کے تحت …
غیر ملکی قبضےکےزیر اثر علاقوں کے لاکھوں مکینوں کے لئے بامعنی ترقی ناممکن ہے ، اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے زیر اہتمام تقریب سے مقررین کا خطاب

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔6فروری (اے پی پی):افریقا سے ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے لاطینی امریکا تک غیر ملکی قبضےکےزیر اثر علاقوں کے لاکھوں مکینوں کے لئے بامعنی ترقی ناممکن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کی تقریب میں مقررین نے کیا جنہوں نے کشمیر اور فلسطین میں ظالمانہ قبضے کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور لوگوں کی حالت زار پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی قبضہ لوگوں کی زندگیوں کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے، انسانوں کے تنازعات، قبضے اور عدم استحکام کے سائے میں زندگی گزارنے کی حقیقت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تصادم نہ صرف انسانی بحران کا باعث بنتا ہے بلکہ یہ سماجی ترقی اور سماجی انصاف کی راہ میں سب سے گہری ساختی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔
پاکستانی مشن کی پریس ریلیز کے مطابق ’’کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا: تنازعات کے اثرات اور مقبوضہ علاقوں میں سماجی ترقی کے چیلنجز”کے عنوان سے منععقدہ تقریب اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں کمیشن برائے سماجی ترقی کے 64ویں اجلاس کے موقع پر منعقد کی گئی۔تقریب سے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد، ترکیہ کے مستقل مندوب اور او آئی سی کی کونسل آف وزرائے خارجہ کے چیئرمین احمد یلدیز ،اقوام متحدہ میں او آئی سی کے مستقل مندوب عبدالحمید عجیبائی اوپیلائرو، فلسطینی صحافی اور مصنف عبدالحمید صیام ، عالمی فورم برائے امن و انصاف کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی ، اقوام متحدہ میں آذربائیجان کے مستقل نمائندے توفیگ موسیوف اور سفارت کاروں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے پینل نے خطاب کیا۔
اختتامی کلمات نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے کہے۔ تقریب کی صدارت اقوام متحدہ میں پاکستان کے ممندوب عاصم افتخار نے کی ۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے غیر ملکی قبضہ سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ایک مستقل حالت ہے جس نے تعلیم سے لے کر ملازمت، نقل و حرکت، اظہار رائے کی آزادی اور یہاں تک کہ خود امید تک ان کی روزمرہ کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے ۔9 لاکھ قابض بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں کشمیریوں کے مصائب کو کشمیریوں کے لئے جمود کا شکار بچپن اور مجبور امنگوں اور بے یقینی کے ہاتھوں یرغمال مستقبل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب انسان کو باوقار حیثیت دینے سے انکار کیا جاتا ہے اور آوازیں خاموش کردی جاتی ہیں تو ترقی وعدے کی بجائے ایک سراب بن جاتی ہے۔
جموں و کشمیر میں شہری زندگی کو غیر معمولی عسکریت پسندی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، من مانی حراستوں اور بڑے پیمانے پر استثنانے خاندانوں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر دیا ہے اور کمیونٹیز کو صدمے کا سامنا کرنا ہے۔ ان ہتھکنڈوں نے کشمیریوں کو گہرے نفسیاتی زخم دیے ، ان کے اعتماد کو ختم کیا اور کشمیری معاشرے کے سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچایا ۔ پاکستانی مندوب نے فلسطین کے لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی طرح وہ بھی طویل قبضے، مسلسل تشدد، بے گھر ہونے اور شہری انفراسٹرکچر کی تباہی سے پیدا ہونے والے سنگین سماجی اور انسانی نتائج کو برداشت کر رہے ہیں۔
تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، رہائش اور ذریعہ معاش سے انکار نے کمزوری اور مایوسی کے بادل پیدا کر دیے ہیں جس کی سب سے زیادہ قیمت خواتین اور بچوں کو برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ کشمیریوں کی طرح فلسطینیوں کا تجربہ انسانی وقار اور سماجی ترقی ر قبضے کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔پینل ڈسکشن میں حصہ لیتے ہوئے اقوام متحدہ میں ترکیہ کے مستقل مندوب سفیر احمد یلدیز نے کشمیریوں، فلسطینیوں اور شامی پناہ گزینوں کی حالت زار کو جاگر کیا۔انہوں نے جموں و کشمیر کو تنازعات سے متاثرہ خطوں کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جہاں تقریباً آٹھ دہائیوں کے تنازعے نے کشمیری عوام کے لیے سماجی ترقی کا ایک بہت بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں طویل کشیدگی، انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیاں، اقتصادی مشکلات اور بنیادی ڈھانچے کی خرابیاں مسئلے کی انسانی جہت کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج جب ہم یوم یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں تو ہم اس بات پر زور دینا چاہیں گے کہ دیرپا امن کے لیے کشمیریوں کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔ کشمیری عوام کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔
ترک سفیر نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کے حامی ہیں جو فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کو بحال کرے ۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن اور ترقی کا حصول ایک ہی وقت میں جنوبی ایشیا اور اس سے باہر کی مجموعی خوشحالی اور پائیدار ترقی میں اپنا حصہ ڈالے گا۔فلسطین میں سماجی ترقی پر تنازعات اور طویل قبضے کے تباہ کن نتائج کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترک مندوب نے کہا کہ فلسطینی ایک ایسی قوم ہیں جو ان کے ناقابل تنسیخ حقوق سے محروم اور قبضے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جاتا ہے، قدرتی وسائل کا استحصال کیا جاتا ہے اور ضروری خدمات تک ان کی رسائی منظم طریقے سے منقطع ہے۔انہوں نے کہا کہ زمین، پانی، توانائی اور دیگر قدرتی وسائل پر قابض طاقت کی طرف سے عائد پابندیاں فلسطینی عوام کو ایک پائیدار معیشت اور بیرونی امداد پر انحصار کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتی ہیں۔ نقل و حرکت پر پابندیاں، بار بار تشدد اور شہری انفراسٹرکچر کی تباہی سماجی ترقی کو روکتی ہے۔اقوام متحدہ میں او آئی سی کے مستقل مبصر حمید عجیبائی اوپیلائیرو نے اس بات پر زور دیا کہ جنگیں اور تنازعات تجارت، ترقی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے او آئی سی کے مضبوط امن سازی کے فن تعمیر اور تنازعات کی روک تھام اور ثالثی میں اقوام متحدہ کے ساتھ اس کے قریبی تعاون کا ذکر کیا۔او آئی سی کے اصولی موقف کی توثیق کرتے ہوئے انہوں نے دیرینہ تنازعات بالخصوص جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی جواز کے مطابق حل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے فلسطینی اور کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق پر او آئی سی کی غیر متزلزل توجہ کا اعادہ کیا اور غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے، نوجوانوں کی شمولیت، اور اسلامو فوبیا و مذہبی عدم برداشت کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے او آئی سی کے اقدامات کو اجاگر کیا، یہ سب ایک امن اور سماجی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ آذربائیجان کے سفیر موسیوف نے تنازعات اور قبضے کے سنگین سماجی اور انسانی نتائج بشمول نقل مکانی، خوراک کی عدم تحفظ، تعلیم میں خلل اور خاص طور پر بچوں کو پہنچنے والے دیرپا نفسیاتی نقصان کو اجاگر کیا۔آ








