رینجرز آرڈیننس 1959 کے تحت مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی جا سکتی ہیں اور اسی قانونی فریم ورک کے تحت اینٹی سمگلنگ کارروائیوں میں رینجرز کی خدمات لی جا رہی ہیں،وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری نے جمعے کو ایوان بالا سینیٹ کو بتایا کہ رینجرز آرڈیننس 1959 کے تحت مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی جا سکتی ہیں اور اسی قانونی فریم ورک کے تحت اینٹی سمگلنگ کارروائیوں میں رینجرز کی خدمات لی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسٹمز پاکستان نے اینٹی سمگلنگ کے لیے 2023 کے ایس آر او کے تحت رینجرز سے …

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری نے جمعے کو ایوان بالا سینیٹ کو بتایا کہ رینجرز آرڈیننس 1959 کے تحت مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی جا سکتی ہیں اور اسی قانونی فریم ورک کے تحت اینٹی سمگلنگ کارروائیوں میں رینجرز کی خدمات لی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسٹمز پاکستان نے اینٹی سمگلنگ کے لیے 2023 کے ایس آر او کے تحت رینجرز سے معاونت کی درخواست کی تھی جس کے بعد صوبائی حکومتوں خصوصاً سندھ کی مشاورت سے مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے ان چوکیوں کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا اور تمام انتظامات صوبائی حکومت کی مشاورت سے کیے گئے۔طلال چوہدری نے کہا کہ اس وقت تقریباً دس مقامات پر مشترکہ چیک پوسٹیں قائم ہیں جہاں روزانہ لگ بھگ چار ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں، ان چوکیوں پر امن و امان، اینٹی سمگلنگ اور اسلحہ و بارود کی روک تھام کے لیے چیکنگ کی جاتی ہے جبکہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر مخصوص گاڑیوں اور افراد کی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں انہی چیک پوسٹوں پر کارروائی کے دوران ایک خودکش حملہ آور بچی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جس کی تفصیلات سندھ کے وزیرِ داخلہ نے میڈیا کو بتائی تھیں۔وزیرِ مملکت نے کہا کہ شہریوں کو ہونے والی ممکنہ تکالیف کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جن میں ہیلپ لائن، واٹس ایپ نمبر اور اہلکاروں کے لیے باڈی کیمروں کا استعمال شامل ہے، ہر چیک پوسٹ پر انسپکٹر یا اس سے اوپر کے افسر کی موجودگی یقینی بنائی جاتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ مشترکہ چیک پوسٹیں صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے قائم کی جاتی ہیں اور بعض علاقوں میں رینجرز انتظامی طور پر صوبوں کے ماتحت کام کرتی ہے۔طلال چوہدری نے ایوان میں نظم و ضبط کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سوالات کے جواب دینے کے لیے وہ مکمل طور پر حاضر ہیں تاہم کارروائی کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔