اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق تحقیق کا علم حاصل کرنا ضروری ہے ، تحقیق سے ہی ہم ماحول کو محفوظ بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں، ہمیں ترقی کے لیے مشکل مراحل سے گزرنا پڑا، آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ پاکستان دینا ہماری ذمہ داری ہے، ماحولیاتی تحفظ یقینی …
ماحولیاتی تحفظ کے لیے تحقیق اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق تحقیق کا علم حاصل کرنا ضروری ہے ، تحقیق سے ہی ہم ماحول کو محفوظ بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں، ہمیں ترقی کے لیے مشکل مراحل سے گزرنا پڑا، آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ پاکستان دینا ہماری ذمہ داری ہے، ماحولیاتی تحفظ یقینی بنانے کے لیے نوجوانوں کا اہم کردار ہے، چین نے جدید ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پا لیا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر (سی ایف اے) کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر برطانیہ کی حکومت کے تعاون سے چلنے والا تکنیکی معاونت کا پروگرام ہے جس کا مقصد پاکستان کی قومی موسمیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ منصوبوں اور کاروبار کے لیے موسمیاتی فنانسنگ کے فروغ کو تیز کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کی موسمیاتی اور معاشی تبدیلی میں نوجوانوں کے کلیدی کردار پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک ترقی پذیر معیشت ہیں اور ہماری نوجوان نسل کو بااختیار بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر نوجوانوں کو مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اس ملک بلکہ ہماری معیشت میں بھی انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ صرف ایک دہائی قبل بیجنگ اور شنگھائی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج چین دنیا کی تقریباً 70 فیصد شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی برآمد کر رہا ہے، چینی نوجوانوں کے پاس ایسی کون سی چیز تھی جو پاکستانی نوجوانوں کے پاس نہیں؟ یہ صلاحیت یا ہنر نہیں بلکہ مواقع کی کمی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین نے جدید ٹیکنالوجی اپناتے ہوئے آلودگی پر موثر قابو پایا۔وفاقی وزیر نے فن لینڈ اور دیگر نوردک ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی استحکام کے لیے انقلابی اقدامات کیے جن سے پاکستان بھی رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے اس بات پر زور دیا کہ کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر جیسے پروگرام نوجوان کاروباری افراد اور اختراع کاروں کے لیے مواقع فراہم کرنے میں نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے وزارت کے گرین فیلڈز پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں نوجوان موسمیاتی حل سے متعلق اپنے خیالات پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرین فیلڈز کے تحت وزارت نوجوانوں کو قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے جوڑے گی۔
ہم اس ماڈل کو پہلے بھی آزما چکے ہیں جہاں دو پاکستانی کمپنیوں کو سیویل، سپین لے جایا گیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے سامنے اپنے منصوبے پیش کیے۔ ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم ڈی اے آئی کے شکر گزار ہیں جو نہ صرف تکنیکی معاونت بلکہ مالی تعاون بھی فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم اپنی نوجوان نسل کے شانہ بشانہ کام کریں گے۔ میرا مقصد اس وزارت کو نوجوانوں کے لیے ایک ایکسیلیریٹر میں تبدیل کرنا ہے، ایک ایسا انکیوبیشن سینٹر جہاں خیالات کو پروان چڑھایا جائے اور انہیں وسعت دی جائے۔








