اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی تہذیب و ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے برطانیہ اور یورپ سمیت مختلف ممالک میں ثقافتی وفود بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی نژاد برطانوی سیاست دان …
حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی تہذیب و ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی برطانوی سابق رکن پارلیمنٹ تسمینہ شیخ سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی تہذیب و ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے برطانیہ اور یورپ سمیت مختلف ممالک میں ثقافتی وفود بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی نژاد برطانوی سیاست دان ، ، البا پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق رکن پارلیمنٹ تسمینہ احمد شیخ سے ملاقات میں کیا۔ ملاقات میں پاک۔ برطانیہ ثقافتی تعاون کے فروغ، بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنے ثقافتی ورثے سے جوڑنے اور جدید ذرائع کے استعمال جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے تسمینہ احمد شیخ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی نئی نسل کو اپنی تہذیب و ثقافت سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، کیونکہ بیرونِ ملک پروان چڑھنے والی نوجوان نسل اپنی ثقافتی شناخت اور تاریخی ورثے سے آگاہی کی خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تسمینہ احمد شیخ کی پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے مثبت سوچ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت میں خواتین کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جو ثقافت کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت برطانیہ اور یورپ میں مقیم پاکستانیوں کو اپنی ثقافت اور فنون سے روشناس کرانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ملاقات کے دوران تسمینہ احمد شیخ نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں، خصوصاً نئی نسل کو اپنے آباؤ اجداد کے ملک پاکستان کی تہذیب و ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو آرٹ اور ثقافت کے ذریعے اپنی جڑوں سے جوڑا جا سکتا ہے جبکہ بطور مسلمان نئی نسل کے درمیان روحانی تعلق بھی موجود ہے جسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی کہ قومی ثقافت اور ورثے کے تحفظ میں اے آئی کے مؤثر استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔تسمینہ احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلیم کے ساتھ ساتھ ثقافتی تعاون کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں کیونکہ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثقافت عالمی سطح پر نمایاں اہمیت رکھتی ہے اور چونکہ ان کے والد کا تعلق پاکستان سے ہے،
اس لیے ان کا پاکستان سے گہرا جذباتی تعلق ہے اور وہ ملک کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔اس موقع پر پارلیمانی سیکریٹری برائے ثقافت فرح ناز اکبر نے کہا کہ پاکستان میں ثقافت کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی کی قیادت میں قومی ورثے کے تحفظ اور ترویج کے لیے بھرپور کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی ثقافتی اداروں میں ڈرامہ، نمائش، فلم اور موسیقی پر مبنی ہفتہ وار پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان سے فنکاروں پر مشتمل وفد برطانیہ بھیجا جائے جو وہاں پاکستانی کمیونٹی کو ملک کی ثقافت سے متعارف کروائے۔ تسمینہ احمد شیخ نے اس تجویز کو سراہتے ہوئے اسے جلد عملی شکل دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔تسمینہ احمد شیخ نے کہا کہ برطانیہ کی حکومت کے ذریعے پاکستان کی ثقافت کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جا سکتا ہے اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے درمیان نچلی سطح پر ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری، فیشن، ڈرامہ اور موسیقی کے ذریعے پاکستانی ثقافت کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے فرح ناز اکبر نے دونوں ممالک کے بچوں کو مشترکہ پروگراموں میں اکٹھا کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔تسمینہ احمد شیخ نے وزیر ثقافت سے پاکستان کے ثقافتی وفد کو برطانیہ مدعو کرنے کی درخواست بھی کی، جس کے لیے باقاعدہ طور پر تجویز متعلقہ پلیٹ فارم کے ذریعے ارسال کی جائے گی۔ انہوں نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی کہانی بیان کرنے کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ڈرامے عالمی سطح پر مقبول ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں وزارت ثقافت کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور پاکستان کی ثقافتی وزارت کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ملاقات کے دوران تسمینہ احمد شیخ نے پاکستان کی تاریخ پر مبنی ڈرامے بنانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا تاکہ نئی نسل کو قومی تاریخ سے آگاہ کیا جا سکے۔








