پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بدعنوانی کے خلاف تعاون مضبوط، مفاہمتی یادداشت پر دستخط

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):پاکستان اور ازبکستان نے بدعنوانی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مؤثر بنانے کے لئے اہم پیشرفت کرتے ہوئے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے ہیں۔ یہ معاہدہ ازبکستان کی اینٹی کرپشن ایجنسی (اے سی اے یو) اور پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے درمیان طے پایا۔ترجمان کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس …

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):پاکستان اور ازبکستان نے بدعنوانی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مؤثر بنانے کے لئے اہم پیشرفت کرتے ہوئے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے ہیں۔ یہ معاہدہ ازبکستان کی اینٹی کرپشن ایجنسی (اے سی اے یو) اور پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے درمیان طے پایا۔ترجمان کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں دونوں ممالک کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر یہ امر اجاگر کیا گیا کہ معاہدہ اقوام متحدہ کے انسدادِ بدعنوانی کنونشن (یو این سی اے سی )سے دونوں ممالک کی وابستگی اور بدعنوانی کے خلاف مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔

معاہدے پر نیب کے ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر اور صدرِ ازبکستان کے مشیر برائے خارجہ پالیسی عبدالعزیز کامیلوو کے نمائندے نے دستخط کئے۔ اس مفاہمت کی یادداشت کے تحت دونوں اداروں کے درمیان ادارہ جاتی ہم آہنگی، باہمی تعاون اور استعدادِ کار میں اضافے کے لئے ایک جامع فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔مفاہمتی یادداشت کے اہم نکات میں بدعنوانی کے جدید طریقہ واردات اور رحجانات سے متعلق معلومات کا تبادلہ، فنی معاونت، ماہرین اور افرادی قوت کا تبادلہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ فارنزک تحقیقات، اثاثہ جات کی تفتیش، فارنزک انجینئرنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات میں تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

معاہدے میں صلاحیتوں کی تعمیر اور عوامی آگاہی پروگراموں کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کی اینٹی کرپشن ایجنسیوں کے سربراہان نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط کرے گا اور احتسابی نظام کی مؤثریت میں اضافہ کرے گا۔بعد ازاں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے کہا کہ بدعنوانی اقتصادی ترقی اور عوامی اعتماد کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مالی جرائم اور غیر قانونی اثاثوں کی سرحد پار نوعیت کے باعث بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان اور ازبکستان کے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ہیں، جو شفافیت، احتساب اور اچھے حکومتی نظام کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔