اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):معروف سکالر اور ممتاز تعلیمی رہنما پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے جمعہ کو ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا۔ ایچ ای سی سیکرٹریٹ آمد پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق اور دیگر سینئر افسران نے ان کا استقبال کیا۔ اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ادارہ سازی کے شعبے میں 35 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر …
ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے چیئرمین ایچ ای سی کا عہدہ سنبھال لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):معروف سکالر اور ممتاز تعلیمی رہنما پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے جمعہ کو ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا۔ ایچ ای سی سیکرٹریٹ آمد پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق اور دیگر سینئر افسران نے ان کا استقبال کیا۔
اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ادارہ سازی کے شعبے میں 35 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر نیاز ملک کے سینئر ترین وائس چانسلر ہیں ،جن کے پاس چھ معتبر اداروں کی قیادت کا مجموعی طور پر 16 سالہ تجربہ ہے، ان اداروں میں قائد اعظم یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی، یو ای ٹی ٹیکسلا، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد، یونیورسٹی آف ساہیوال اور انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور شامل ہیں۔
اس کے علاوہ وہ تین مدتوں کے لئے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے وائس چیئرمین کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز سے کیمیکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ انہوں نے متعدد تحقیقی مقالے شائع کیے، چار کتابیں تحریر و مدون کیں اور کیمیکل انجینئرنگ و ٹوٹل کوالٹی مینجمنٹ میں 12 پی ایچ ڈی طلبہ کی نگرانی کی۔ وہ 2005 سے 2017 تک جرنل آف کوالٹی اینڈ ٹیکنالوجی مینجمنٹ اور انٹرنیشنل جرنل آف کوالٹی اینڈ انوویشن کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔
ان کی قیادت میں ان اداروں نے تعلیمی پروگراموں، تحقیقی پیداواریت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ڈیجیٹلائزیشن اور بین الاقوامی تعاون میں نمایاں ترقی کی۔ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر نیاز کو 2015 میں ستارہِ امتیاز، 2017 میں پی ای سی گولڈ میڈل اور 2015 میں این ٹی یو بورڈ آف گورنرز کی جانب سے گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔
چیئرمین ایچ ای سی کے طور پر ان کے وژن کا محور معیارِ تعلیم کو مضبوط بنانا، عالمی شراکت داری کے ذریعے تحقیق کو فروغ دینا، صنعت پر مبنی تعلیمی پروگراموں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ملک میں علم پر مبنی معیشت کے قیام کے لئے اساتذہ کی پیشہ وارانہ مہارتوں کو بہتر بنانا ہے۔ پاکستان بھر کی اعلیٰ تعلیمی برادری نے حکومت کے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے شعبہ تعلیم کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔








