بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مدد کے لیے پاکستان کے سفارتی مشنز کو مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے، صدر آئی سی سی آئی

اسلام آباد۔7فروری (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مدد کے لیے فعال اور نتائج پر مبنی کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کے سفارتی مشنز کو مزید فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ہفتہ کو یہاں جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کے مسابقتی عالمی ماحول …

اسلام آباد۔7فروری (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مدد کے لیے فعال اور نتائج پر مبنی کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کے سفارتی مشنز کو مزید فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ہفتہ کو یہاں جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کے مسابقتی عالمی ماحول میں سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو روایتی سفارتی کاموں سے آگے بڑھ کر پاکستانی مصنوعات اور خدمات کے لیے تجارت کے فروغ، مارکیٹ تک رسائی اور کاروباری میچ میکنگ کے لیے فعال طور پر سہولت فراہم کرنا ہو گی۔

سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو بیرون ملک شدید مسابقت کا سامنا ہے۔ ہمارے سفارتی مشنز بروقت مارکیٹ انٹیلی جنس، بی ٹو بی رابطوں کی سہولت فراہم کرکے تجارت سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مقامی کاروباروں اور غیر ملکی منڈیوں کے درمیان موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ صدر آئی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ سفارت خانوں کے تجارتی سیکشنز کے عملہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ چیمبرز اور تجارتی اداروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی ہو گی تاکہ برآمد کنندگان کو عملی اور ٹارگٹڈ سپورٹ حاصل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ سفارتی مشنز اور نجی شعبے کے درمیان قریبی روابط سے برآمدی مقامات کو متنوع بنانے، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر ملک کے تجارتی نقش کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ سفارتی موجودگی کو ٹھوس تجارتی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے وزارت خارجہ، وزارت تجارت اور کاروباری برادری کے درمیان پائیدار ہم آہنگی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیمبر بیرون ملک پاکستانی مشنز کو کاروباری ان پٹ، برآمد کنندگان کے فیڈ بیک اور مارکیٹ کی صورت حال فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ زیادہ تجارت پر مرکوز سفارتی نقطہ نظر برآمدات کی ترقی، روزگار کی تخلیق اور مجموعی اقتصادی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔