لاہور۔8فروری (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے توانائی اور ٹیکنالوجی کے بڑے انقلاب سے گزر رہی ہے، جہاں الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر قابلِ تجدید توانائی کے گرڈز تک، جدید معیشت کا انحصار معدنی وسائل پر بڑھتا جا رہا ہے۔ اتوار کو لاہور میں پاکستان فرنیچر کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے …
پاکستانی معدنی وسائل گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں،میاں کاشف

مزید خبریں
لاہور۔8فروری (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے توانائی اور ٹیکنالوجی کے بڑے انقلاب سے گزر رہی ہے، جہاں الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر قابلِ تجدید توانائی کے گرڈز تک، جدید معیشت کا انحصار معدنی وسائل پر بڑھتا جا رہا ہے۔ اتوار کو لاہور میں پاکستان فرنیچر کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس وسیع اور غیر استعمال شدہ معدنی ذخائر موجود ہیں، جو عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو نئی شکل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
میاں کاشف اشفاق نے بتایا کہ پاکستان کے معدنی ذخائر کی مجموعی مالیت چھ ٹریلین ڈالر سے زائد ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے معدنی وسائل کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان اور امریکا کو ایک ایسے فریم ورک کی ضرورت ہے جو پائیداری، شمولیت اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی ہو، تاکہ معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی اصل قدر پاکستان کے اندر ہی پیدا ہو۔
میاں کاشف نے کہا کہ شفاف ریونیو مینجمنٹ کے نظام کا قیام بھی انتہائی ضروری ہے، جس کے تحت معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن آڈٹ شدہ عوامی ذرائع کے ذریعے خرچ ہو اور اسے سماجی و معاشی ترقی کی ترجیحات کے مطابق استعمال کیا جائے، جو پاکستان کی مالی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر درست حکمتِ عملی اپنائی جائے تو امریکا اور پاکستان کے درمیان معدنی وسائل پر مبنی شراکت داری صرف سپلائی چین تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس سے علاقائی استحکام کو فروغ ملے گا، ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا اور پاکستان حقیقی پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔








