بھارت کی جانب سے پاکستان کے حصے کے پانی میں کسی بھی قسم کی کمی جنگی اقدام کے مترادف ہوگی،زرعی فورم پاکستان کے صدر ڈاکٹر ابراہیم مغل

لاہور۔7فروری (اے پی پی):زرعی اور آبی ماہرین نےخبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے حصے کے پانی میں کسی بھی قسم کی کمی جنگی اقدام کے مترادف ہوگی، پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔ ماہرین نے بھارت کے اقدامات کو “پانی کو ہتھیار بنانے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے استحکام …

لاہور۔7فروری (اے پی پی):زرعی اور آبی ماہرین نےخبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے حصے کے پانی میں کسی بھی قسم کی کمی جنگی اقدام کے مترادف ہوگی، پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔ ماہرین نے بھارت کے اقدامات کو “پانی کو ہتھیار بنانے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ہفتہ کواے پی پی سے ٹیلی فونک گفتگو میں زرعی فورم پاکستان کے صدر ڈاکٹر ابراہیم مغل نے بھارت کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا کہ 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کو “معطل (ابےئنس )” کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل، توڑنے یا اس میں ترمیم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ڈاکٹر ابراہیم مغل نے “ابےئنس” کی اصطلاح کو بین الاقوامی معاہداتی قانون میں کوئی قانونی حیثیت نہ رکھنے والی گھڑی ہوئی اصطلاح قرار دیاجس کا مقصد صرف ابہام پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود بھارت بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اسے معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اختیار حاصل نہیں اور مستقل ثالثی عدالت نے بھی جون 2025ء کے اپنے فیصلے میں اس مؤقف کی توثیق کی کہ پاکستان کی رضامندی کے بغیر بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے میں طے شدہ تنازعات کے حل کے طریقۂ کار کے مطابق قانونی اور سفارتی ذرائع سے محتاط اور باضابطہ ردعمل دینے پر مجبور ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم مغل نے بھارت پر دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں دانستہ ہیرا پھیری کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے “پانی کو ہتھیار بنانے” کی واضح مثال قرار دیاجس کے پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور مجموعی علاقائی امن پر نہایت سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ پاکستان کو پانی کی کسی مخصوص مقدار کی نہیں بلکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے قدرتی بہاؤ کی ضمانت دیتا ہے۔

اگرچہ یہ دریا تاریخی طور پر اپنے قدرتی راستوں پر بہتے رہے ہیں تاہم حالیہ مصنوعی مداخلتوں نے آبپاشی کے نظام الاوقات اور زرعی چکروں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ڈاکٹر ابراہیم مغل نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے معاہدے کو معطل کرنے سے متعلق بیان کی کوئی قانونی، تکنیکی یا اخلاقی بنیاد نہیں۔ تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے پہلے ہی سندھ طاس معاہدے کے تحت بڑے سمجھوتے کیے تھےجن کے نتیجے میں بھارت کو تین مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج پر کنٹرول دیا گیا۔

دریں اثنا پاکستان اکنامک اینڈ پولیٹیکل فورم (پی ای پی ایف) کے چیئرمین نور محمد قصوری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے ضامن کے طور پر عالمی بینک کو اس معاملے میں مداخلت کے لیے کہا جانا چاہیے۔نور محمد قصوری نے کہا کہ مئی 2025ء میں بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی کامیابی کے بعد وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے نمایاں سفارتی کامیابیاں حاصل کیں اور اب پاکستان کے دوست ممالک کو بھی اس مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کے تحت کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا حق نہیں رکھتا ،انہوں نے بھارت کے اقدامات کو پاکستان کے خلاف جنگی اقدام قرار دیا۔

مزید خبریں