اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):رشکئی سپیشل اکنامک زون (ایس ای زی) پاکستان کے صنعتی منظرنامے کو مضبوط بنا رہا ہے جہاں سرمایہ کاروں کو مالی مراعات کے ساتھ قابل اعتماد یوٹیلٹی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں 160 میگاواٹ بجلی کی گنجائش اور 33 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی شامل ہے۔ اس زون میں اب تک 26 کمپنیوں کو 102 ایکڑ اراضی الاٹ کی جا …
رشکئی سپیشل اکنامک زون پاکستان کے صنعتی منظرنامے کو مضبوط بنا رہا ہے، عبدالحمید

مزید خبریں
اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):رشکئی سپیشل اکنامک زون (ایس ای زی) پاکستان کے صنعتی منظرنامے کو مضبوط بنا رہا ہے جہاں سرمایہ کاروں کو مالی مراعات کے ساتھ قابل اعتماد یوٹیلٹی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں 160 میگاواٹ بجلی کی گنجائش اور 33 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی شامل ہے۔
اس زون میں اب تک 26 کمپنیوں کو 102 ایکڑ اراضی الاٹ کی جا چکی ہے جو صنعتی سرگرمیوں میں تیزی کی نشاندہی کرتی ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے رشکئی اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ آپریشن کمپنی کے انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے منیجر عبدالحمید نے بتایا کہ زون سرمایہ کاروں کو کاروبار میں آسانی اور طویل مدتی آپریشنل استحکام کے لیے جامع مراعات اور معاونت فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زون میں صنعتوں کو ابتدائی سیٹ اپ اخراجات کم کرنے کے لیے سرمایہ جاتی مشینری کی درآمد پر ایک بار کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس سے استثنیٰ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ کار کمرشل آپریشنز کے آغاز سے 10 سال تک انکم ٹیکس چھوٹ حاصل کر سکتے ہیں جس سے یہ زون صنعتی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بن جاتا ہے۔ یہاں 99 سالہ لیز پر زمین کی سہولت بھی موجود ہے جو طویل مدتی منصوبہ بندی اور توسیع کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
سہولت کاری کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے عبدالحمید نے کہا کہ زون میں ون ونڈو سروس سسٹم قائم ہے جو ایک ہی جگہ پر تمام منظوریوں کا عمل مکمل کرتا ہے اور ریگولیٹری مراحل کو تیز اور آسان بناتا ہے۔ اس کے علاوہ چوبیس گھنٹے سکیورٹی کا نظام کاروبار کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔سرمایہ کاری کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اب تک 26 کمپنیوں کو 102 ایکڑ زمین الاٹ کی جا چکی ہے جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق درجنوں چینی کمپنیاں مقامی شراکت داروں کے ساتھ رشکئی ایس ای زی میں مواقع تلاش کر رہی ہیں جبکہ سینکڑوں ملکی صنعتیں بھی یہاں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹیز کے حوالے سے زون میں اس وقت 160 میگاواٹ بجلی دستیاب ہے جسے طویل مدت میں 210 میگاواٹ تک بڑھایا جائے گا۔ اسی طرح 33 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔لاجسٹکس اور ذخیرہ اندوزی کے لیے 10 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر معیاری گودام تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے روزانہ 12 ہزار ٹن صلاحیت کا ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔
عبدالحمید نے بتایا کہ رشکئی ایس ای زی تقریباً ایک ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے اور اسے تین مراحل میں ترقی دی جا رہا ہے جن میں پہلے مرحلے کا رقبہ 247 ایکڑ ہے۔ زون میں اندرونی سڑکیں، نکاسی آب کا نظام، ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ، گیس سپلائی، 11 کے وی بجلی کنکشن اور ٹیلی کام سہولیات براہ راست صنعتوں تک فراہم کی جا رہی ہیں۔
اس کے علاوہ یہاں کسٹمائزڈ ورکشاپس، کمرشل کمپلیکسز، اپارٹمنٹس اور دیگر معاون سہولیات بھی موجود ہیں تاکہ ایک مکمل صنعتی ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔انہوں نے زور دیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اس کی سٹریٹجک اہمیت، جدید انفراسٹرکچر اور سرمایہ کار دوست مراعات کے باعث رشکئی ایس ای زی پاکستان کی صنعتی تبدیلی اور علاقائی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔







