اسلام آباد ۔25 ستمبر(اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا امور ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے وطن واپس آنے سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ عدالتوں کا سامنا کریں گے۔ پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”ہوکیا رہا ہے“ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے رائے دی کہ وہ عدالت میں …
سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے وطن واپس آنے سے واضح ہو گیا کہ وہ عدالتوں کا سامنا کریں گے،ڈاکٹر مصدق ملک

مزید خبریں
اسلام آباد ۔25 ستمبر(اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا امور ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے وطن واپس آنے سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ عدالتوں کا سامنا کریں گے۔ پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”ہوکیا رہا ہے“ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے رائے دی کہ وہ عدالت میں پیش نہ ہوں لیکن محمد نواز شریف نے عدالتوں میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کے کیس میں نیب نے تمام قانونی راستے ترک کر دئیے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ پاناما پر تو آیا ہی نہیں اور انہیں ٹرائل کے بغیر ہی نااہل کر دیا گیا۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ماضی میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کو بھی اسی طرح کے مقدمات میں ملوث کیا گیا تھا جس پر وہ 5سال تک ملک سے باہر بھی رہیں لیکن سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے بہت جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا اور وہ عدالت کے سامنے حاضر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف پر بھی اسی طرح کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس پر وہ بھی کمر درد کا بہانہ کر کے ملک چھوڑ کر چلے گئے اور آج تک واپس بھی نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف جب اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے لیے یہاں سے لندن گئے تو بہت سے لوگوں نے ان کے بارے میں کئی ایسی باتیں کیں جن سے ہمیں بہت تکلیف بھی ہوئی لیکن محمد نواز شریف نے وطن واپس آ کر عدالتوں کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے اب ان تمام لوگوں کے منہ بند ہو جانے چاہیئں۔ ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کو ماضی میں بھی کہا گیا کہ آپ نااہل ہو گئے ہیں جبکہ انہیں اٹک جیل میں بھی رکھا گیا لیکن پھر سب نے دیکھا کہ وہ واپس آئے اور دو تہائی اکثریت سے حکومت بھی بنائی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فوج سمیت تمام اداروں سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔








