پشاور۔ 10 فروری (اے پی پی):بین الاقوامی معاہدوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور ضمانتوں کو مسلسل نظر انداز کرنے کے الزامات کی زد میں رہنے والے بھارت کو ایک بار پھر تنقید کا سامنا ہے، بھارت نے ہیگ میں قائم مستقل عدالت برائے ثالثی (پی سی اے) کے فیصلے اور ورلڈ بینک کی ضمانتوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش کی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور قانونی مبصرین کے مطابق چاہے جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں ہوں یا بین الاقوامی ثالثی عدالت کے پابند فیصلے، فاشسٹ مودی حکومت نے ہمیشہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے اور عالمی بینک کی ضمانتوں کے خلاف کام کیا ہے۔سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی غیر قانونی یکطرفہ فیصلے کو بین الاقوامی قانون اور معاہدے کے وعدوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے جس نے پاکستان کے خلاف بھارتی حکومت کے منفی عزائم کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔سندھ طاس معاہدے میں ہندوتوا حکومت نے ورلڈ بینک کے اس کردار کی بھی خلاف ورزی کی ہے جو اس معاہدے کا ضامن ہے۔
عالمی بینک کی ضمانت میں اس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کو 1960 میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے دستخط شدہ اس تاریخی معاہدے کے خلاف یکطرفہ کارروائی یا اسے معطل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ مغربی دریاؤں کا رخ موڑنے کی کوشش کر کے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے 1960 کے آبی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس سے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ستمبر 1960 میں پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے درمیان ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک جامع فریم ورک فراہم کیا تھا۔
اس تاریخی معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا جبکہ مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ 1965 اور 1971 کی جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا۔ سپریم کورٹ کے وکیل اور بین الاقوامی قانون کے ماہر ایڈووکیٹ آصف یوسفزئی کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے غیر قانونی اعلان نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کا اصلی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ چناب اور جہلم پر بھارت کے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں سمیت دیگر غیر قانونی اقدامات کو مغربی دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معاہدے کی شقوں کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
مودی حکومت کے یہ غیر قانونی اقدامات پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بھوک اور افلاس کی طرف دھکیلنے کے علاوہ دہشت گردی اور توانائی کے بحران کو ہوا دینے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس اس معاہدے کو معطل کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے خاص طور پر مستقل عدالت برائے ثالثی کے اس پابند فیصلے کے بعد جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کسی بھی فریق کو یکطرفہ معطلی کی اجازت نہیں دیتا۔
آصف یوسفزئی کے مطابق پی سی اے نے حکم دیا ہے کہ بھارت پاکستان کے استعمال کےلیے مغربی دریاؤں سندھ ، جہلم اور چناب کے بلا تعطل بہاؤ کو یقینی بنائے جبکہ اس نے بھارت کی یکطرفہ معطلی کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ 8 اگست 2025 کو عدالت نے فیصلہ دیا کہ بھارت ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن کے حوالے سے معاہدے کی شقوں کی سختی سے پابندی کرے اور ایسے ڈیزائن سے گریز کرے جو ضرورت سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کا باعث بنیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تاریخی فیصلے نے پاکستان کے دریاؤں کے مسلسل بہاؤ کے حقوق کا تحفظ کیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت کی منفی بیان بازی کے باوجود معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی عدالت نے مغربی دریاؤں پر ڈیم منصوبوں کو بھی مسترد کر دیا ہے اور یہ پاکستان کی اہم قانونی کامیابی ہے جس کا مطلب ہے پاکستان کا موقف عالمی قوانین کے مطابق ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف نے کہا کہ فاشسٹ مودی حکومت کا یہ اقدام ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد اندرونی رائے عامہ کو خوش کرنا ہے۔ مئی کے تنازع میں عسکری اور سفارتی ناکامیوں کے بعد مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تیز کر کے اندرونی سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جس کی خود بھارت کے اندر بھی مذمت کی گئی۔ ڈاکٹر رؤف نے کہا کہ یہ غیر منطقی فیصلہ پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کےلیے کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی زراعت اور لائیو سٹاک کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے اقدامات کو قبول کر لیا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا جس کے بعد چین جیسی دیگر ریاستیں بھی بھارت کے خلاف ایسے ہی اقدامات کر سکتی ہیں۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے 66 سال قبل ورلڈ بینک کی ضمانت سے طے پانے والے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جس نے پانی پر جنگ کے امکانات کو کم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 12(4) کے تحت یہ معاہدہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان تحریری اتفاق رائے سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔
اس میں یکطرفہ معطلی یا دستبرداری کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ معاہدہ غیر معینہ مدت کے لیے ہے۔ ڈاکٹر حسین نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ریاستوں کے درمیان ہے، کسی خاص حکومت یا نظام کے درمیان نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کا کوئی بھی ایسا غیر قانونی اقدام علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے اور اس کے اثرات سرحدوں کے پار تک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی آبی قانون کسی ملک کو دوسرے کےلیے دریا کے بہاؤ روکنے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر موجود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کا اس قسم کا غیر قانونی اقدام علاقائی نظیر قائم کرے گا جو بعد میں چین سمیت دوسری ریاستوں کےلیے بھی راہ ہموار کرے گا کہ وہ دوسرے ممالک کے دریاؤں کا رخ موڑدیں۔
ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ معاہدے ریاستوں کے درمیان پابند وعدے ہوتے ہیں جنہیں سیاسی مفادات یا تعلقات کی خرابی کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس جیسے معاہدوں پر من و عن عمل ہونا چاہیے تاکہ علاقائی استحکام برقرار رہے، لوگ خوشحال ہوں اور عالمی قانون کی ساکھ یقینی ہو۔ بین الاقوامی برادری بالخصوص ورلڈ بینک پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مودی حکومت کو یکطرفہ کارروائی سے روکے تاکہ خطے میں امن، خوشحالی اور غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی غیر قانونی یکطرفہ فیصلےنے پاکستان مخالف بھارتی منفی عزائم کو مزید بے نقاب کر دیا ہے، بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین و قانونی مبصرین
پشاور۔ 10 فروری (اے پی پی):بین الاقوامی معاہدوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور ضمانتوں کو مسلسل نظر انداز کرنے کے الزامات کی زد میں رہنے والے بھارت کو ایک بار پھر تنقید کا سامنا ہے، بھارت نے ہیگ میں قائم مستقل عدالت برائے ثالثی (پی سی اے) کے فیصلے اور ورلڈ بینک کی ضمانتوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش …
مزید خبریں
گلگت بلتستان کے نگران وزیر اعلیٰ یار محمد خان کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا چوتھا اجلاس
افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے معرکہ حق ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کا انعقاد،کرکٹ میچ کے ذریعے معرکہ حق کی فتح کا جشن منایا گیا، ہمیں اسی طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے، عطاء اللہ تارڑ
پی ایچ ایف نےقومی کھیل کی بحالی کے لیے ملک بھر میں "اسکول ہاکی اپ لفٹ پلان” کا آغاز کر دیا ہے،ترجمان
پشاور۔ 10 فروری (اے پی پی):بین الاقوامی معاہدوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور ضمانتوں کو مسلسل نظر انداز کرنے کے الزامات کی زد میں رہنے والے بھارت کو ایک بار پھر تنقید کا سامنا ہے، بھارت نے ہیگ میں قائم مستقل عدالت برائے ثالثی (پی سی اے) کے فیصلے اور ورلڈ بینک کی ضمانتوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش کی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور قانونی مبصرین کے مطابق چاہے جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں ہوں یا بین الاقوامی ثالثی عدالت کے پابند فیصلے، فاشسٹ مودی حکومت نے ہمیشہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے اور عالمی بینک کی ضمانتوں کے خلاف کام کیا ہے۔سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی غیر قانونی یکطرفہ فیصلے کو بین الاقوامی قانون اور معاہدے کے وعدوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے جس نے پاکستان کے خلاف بھارتی حکومت کے منفی عزائم کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔سندھ طاس معاہدے میں ہندوتوا حکومت نے ورلڈ بینک کے اس کردار کی بھی خلاف ورزی کی ہے جو اس معاہدے کا ضامن ہے۔
عالمی بینک کی ضمانت میں اس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کو 1960 میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے دستخط شدہ اس تاریخی معاہدے کے خلاف یکطرفہ کارروائی یا اسے معطل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ مغربی دریاؤں کا رخ موڑنے کی کوشش کر کے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے 1960 کے آبی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس سے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ستمبر 1960 میں پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے درمیان ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک جامع فریم ورک فراہم کیا تھا۔
اس تاریخی معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا جبکہ مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ 1965 اور 1971 کی جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا۔ سپریم کورٹ کے وکیل اور بین الاقوامی قانون کے ماہر ایڈووکیٹ آصف یوسفزئی کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے غیر قانونی اعلان نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کا اصلی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ چناب اور جہلم پر بھارت کے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں سمیت دیگر غیر قانونی اقدامات کو مغربی دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معاہدے کی شقوں کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
مودی حکومت کے یہ غیر قانونی اقدامات پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بھوک اور افلاس کی طرف دھکیلنے کے علاوہ دہشت گردی اور توانائی کے بحران کو ہوا دینے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس اس معاہدے کو معطل کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے خاص طور پر مستقل عدالت برائے ثالثی کے اس پابند فیصلے کے بعد جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کسی بھی فریق کو یکطرفہ معطلی کی اجازت نہیں دیتا۔
آصف یوسفزئی کے مطابق پی سی اے نے حکم دیا ہے کہ بھارت پاکستان کے استعمال کےلیے مغربی دریاؤں سندھ ، جہلم اور چناب کے بلا تعطل بہاؤ کو یقینی بنائے جبکہ اس نے بھارت کی یکطرفہ معطلی کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ 8 اگست 2025 کو عدالت نے فیصلہ دیا کہ بھارت ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن کے حوالے سے معاہدے کی شقوں کی سختی سے پابندی کرے اور ایسے ڈیزائن سے گریز کرے جو ضرورت سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کا باعث بنیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تاریخی فیصلے نے پاکستان کے دریاؤں کے مسلسل بہاؤ کے حقوق کا تحفظ کیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت کی منفی بیان بازی کے باوجود معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی عدالت نے مغربی دریاؤں پر ڈیم منصوبوں کو بھی مسترد کر دیا ہے اور یہ پاکستان کی اہم قانونی کامیابی ہے جس کا مطلب ہے پاکستان کا موقف عالمی قوانین کے مطابق ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف نے کہا کہ فاشسٹ مودی حکومت کا یہ اقدام ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد اندرونی رائے عامہ کو خوش کرنا ہے۔ مئی کے تنازع میں عسکری اور سفارتی ناکامیوں کے بعد مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تیز کر کے اندرونی سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جس کی خود بھارت کے اندر بھی مذمت کی گئی۔ ڈاکٹر رؤف نے کہا کہ یہ غیر منطقی فیصلہ پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کےلیے کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی زراعت اور لائیو سٹاک کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے اقدامات کو قبول کر لیا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا جس کے بعد چین جیسی دیگر ریاستیں بھی بھارت کے خلاف ایسے ہی اقدامات کر سکتی ہیں۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے 66 سال قبل ورلڈ بینک کی ضمانت سے طے پانے والے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جس نے پانی پر جنگ کے امکانات کو کم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 12(4) کے تحت یہ معاہدہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان تحریری اتفاق رائے سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔
اس میں یکطرفہ معطلی یا دستبرداری کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ معاہدہ غیر معینہ مدت کے لیے ہے۔ ڈاکٹر حسین نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ریاستوں کے درمیان ہے، کسی خاص حکومت یا نظام کے درمیان نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کا کوئی بھی ایسا غیر قانونی اقدام علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے اور اس کے اثرات سرحدوں کے پار تک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی آبی قانون کسی ملک کو دوسرے کےلیے دریا کے بہاؤ روکنے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر موجود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کا اس قسم کا غیر قانونی اقدام علاقائی نظیر قائم کرے گا جو بعد میں چین سمیت دوسری ریاستوں کےلیے بھی راہ ہموار کرے گا کہ وہ دوسرے ممالک کے دریاؤں کا رخ موڑدیں۔
ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ معاہدے ریاستوں کے درمیان پابند وعدے ہوتے ہیں جنہیں سیاسی مفادات یا تعلقات کی خرابی کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس جیسے معاہدوں پر من و عن عمل ہونا چاہیے تاکہ علاقائی استحکام برقرار رہے، لوگ خوشحال ہوں اور عالمی قانون کی ساکھ یقینی ہو۔ بین الاقوامی برادری بالخصوص ورلڈ بینک پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مودی حکومت کو یکطرفہ کارروائی سے روکے تاکہ خطے میں امن، خوشحالی اور غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید خبریں
گلگت بلتستان کے نگران وزیر اعلیٰ یار محمد خان کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا چوتھا اجلاس
افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے معرکہ حق ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کا انعقاد،کرکٹ میچ کے ذریعے معرکہ حق کی فتح کا جشن منایا گیا، ہمیں اسی طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے، عطاء اللہ تارڑ
پی ایچ ایف نےقومی کھیل کی بحالی کے لیے ملک بھر میں "اسکول ہاکی اپ لفٹ پلان” کا آغاز کر دیا ہے،ترجمان
ملتان اورمضافات میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان
راولپنڈی ، سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، کاروباری اوقات کار میں تبدیلی
ننکانہ صاحب،ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افیسر ریسکیو 1122 محمد اکرم پنوار کی زیر صدارت ماہانہ کارکردگی متعلق اہم اجلاس
نیشنل رحمت للعالمین و خاتم النبیینؐ اتھارٹی اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
صوبے کے انفراسٹرکچر کی جدید خطوط پر ترقی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہیں، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان