کراچی۔ 10 فروری (اے پی پی):آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام اردو کے عظیم شاعر مرزا غالب کی یاد میں ’’بیادِ غالب‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیا گیا۔ جاری اعلامیہ کے مطابق تقریب میں معروف شاعرہ زہرا نگاہ اور ممتاز دانشور و نقاد ڈاکٹر خورشید رضوی نے مرزا غالب کی شخصیت، فکر اور فن پر تفصیلی گفتگو کی جبکہ تقریب کی نظامت …
آرٹس کونسل کے زیرِ اہتمام اردو کے عظیم شاعر مرزا غالب کی یاد میں "بیادِ غالب” کے عنوان سے تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
کراچی۔ 10 فروری (اے پی پی):آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام اردو کے عظیم شاعر مرزا غالب کی یاد میں ’’بیادِ غالب‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیا گیا۔ جاری اعلامیہ کے مطابق تقریب میں معروف شاعرہ زہرا نگاہ اور ممتاز دانشور و نقاد ڈاکٹر خورشید رضوی نے مرزا غالب کی شخصیت، فکر اور فن پر تفصیلی گفتگو کی جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے انجام دئیے ۔ اس موقع پر فاطمہ حسن، شاہد رسام، ہما میر، امجد شاہ، مظہر عباس سمیت فن و ادب سے وابستہ شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔تقریب سے زہرا نگاہ نے خطاب کرتے ہوئے نے کہا کہ مرزا غالب وہ شاعر ہیں جنہیں پوری دنیا جانتی ہے اور ان پر کم از کم تین سو کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غالب کی عظمت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔جب میں نے غالب کا دیوان کھولا تو محسوس ہوا کہ ہر لفظ کو انگلی رکھ کر سمجھنا پڑتا ہے اور آج بھی اس عمر میں غالب کو پوری طرح نہیں سمجھ پائی ۔زہرا نگاہ نے کہا کہ شاعر کو اپنے اشعار سے اپنے بچوں کی طرح محبت ہوتی ہے اور غالب کا دیوان انتہائی دلچسپ ہے، جس کا ہر لفظ اپنے اندر معنی رکھتا ہے۔
ڈاکٹر خورشید رضوی نے کہا کہ مرزا غالب اردو ادب کی ایک بہت بڑی اور غیر معمولی شخصیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ غالب کے لیے جذباتی ہیں اور انہیں شیکسپیئر کے برابر نہیں بلکہ اس سے بھی اوپر رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرزا غالب شاعری اور نثر دونوں میں صاحبِ طرز تھے اور اردو ادب میں غالب جیسا کوئی اور صاحبِ طرز شاعر نہیں۔ غالب نے زیادہ تر زور فارسی زبان پر دیا اور اس میں کمال مہارت حاصل کی۔صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ آج ہم اردو کے سب سے بڑے اور پہلے صاحبِ طرز شاعر مرزا غالب کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔انہوں نے معروف محقق رشید حسن صدیقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغلوں نے ہندوستان کو تین بڑی چیزیں دیں، جن میں اردو زبان، مرزا غالب اور آگرہ کا تاج محل شامل ہیں۔ مرزا غالب پہلے شاعر تھے جنہوں نے ہماری روایتی شاعری کو پوری دنیا میں متعارف کروایا۔انہوں نے کہا کہ غالب نے روایتی شاعری سے ہٹ کر اردو ادب میں ایک نیا اور منفرد راستہ اختیار کیا اور شاعری کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی اپنا الگ اور نمایاں اسلوب قائم کیا۔تقریب کے دوران زہرا نگاہ نے مرزا غالب کے اشعار سنا کر حاضرین کو محظوظ کیا جبکہ تقریب کے اختتام پر صدر آرٹس کونسل نے زہرا نگاہ اور ڈاکٹر خورشید رضوی کو گلدستے پیش کیے۔








