اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے زیر اہتمام ’’پاکستان کا نیا قومی نصاب‘‘ کے عنوان سے دو روزہ قومی سمٹ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ سمٹ کے پہلے روز ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے معزز اراکین، جامعات کے وائس چانسلرز، صوبائی و علاقائی محکمہ تعلیم کے نمائندگان، ترقیاتی شراکت داروں، نصاب کے ماہرین اور ملک بھر سے تعلیمی قائدین نے شرکت کی۔ سیکرٹری وزارت وفاقی …
قومی نصاب سمٹ 2026 کا افتتاح، پاکستان کے نئے قومی نصاب کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

مزید خبریں
اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے زیر اہتمام ’’پاکستان کا نیا قومی نصاب‘‘ کے عنوان سے دو روزہ قومی سمٹ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ سمٹ کے پہلے روز ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے معزز اراکین، جامعات کے وائس چانسلرز، صوبائی و علاقائی محکمہ تعلیم کے نمائندگان، ترقیاتی شراکت داروں، نصاب کے ماہرین اور ملک بھر سے تعلیمی قائدین نے شرکت کی۔
سیکرٹری وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ندیم محبوب نے استقبالیہ خطاب کیا۔ انہوں نے معزز مہمانوں، یونیسکو اور یونیسیف کے نمائندگان کو خوش آمدید کہا اور ایک ہم آہنگ، مستقبل بین قومی نصاب کی اہمیت پر زور دیا جو پاکستان کی آئینی اقدار، ثقافتی شناخت اور ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ بعد ازاں ،ڈائریکٹر این سی سی ونگ، وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے سمٹ کے اغراض و مقاصد پیش کیے اور مجوزہ نئے نصابی فریم ورک کا وژن اور مشن شرکا کے ساتھ شیئر کیا۔
سمٹ میں عالمی بینک سے تعلق رکھنے والے معروف بین الاقوامی ماہر الونسو سانچیز نے کلیدی خطاب کیا اور نصابی اصلاحات اور تدریسی تبدیلیوں پر عالمی نقطہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، تدریسی عمل کی بہتری اور نصاب، تدریس اور جائزہ کے مابین مربوط نظام کی تشکیل پر زور دیا۔ وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر پاکستان کے نصاب میں فوری اور جامع تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پاکستان میں تعلیم اور نصاب کے تاریخی ارتقاء کا جائزہ لیا اور قومی ترقی میں اس کی سٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی۔
مزید برآں، انہوں نے قومی نصاب میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹیوٹ) کے انضمام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہنر پر مبنی تعلیم کو ابتدائی مراحل سے ہی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو منڈی کی ضروریات اور قومی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق عملی مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔ انہوں نے نئے نصاب کے موثر نفاذ کے لیے چند اہم نکات بھی پیش کیے جن میں قابلیت پر مبنی فریم ورک، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت پر توجہ، شہری ذمہ داری کا فروغ اور مرحلہ وار و پائیدار نفاذ کے منظم طریقہ کار شامل ہیں۔
پہلے روز کی کارروائی کا اختتام ’’پاکستان کا قومی نصاب: مسائل، چیلنجز اور آگے کا لائحہ عمل‘‘ کے موضوع پر ایک جامع پینل مباحثے سے ہوا۔ اس کے بعد گروپ مباحثوں میں شرکا نے مختلف موضوعاتی شعبوں پر تفصیلی غور و خوض کرتے ہوئے نظامی اصلاحات کے لیے عملی تجاویز پیش کیں۔ سمٹ کے پہلے روز کی مشاورت نے ایک جامع، ہمہ گیر اور مستقبل سے ہم آہنگ قومی نصاب پر اتفاقِ رائے کی مضبوط بنیاد فراہم کی ہے جس کا مقصد ہمدردی، تخلیقی صلاحیت، ٹیم ورک، اجتماعی مہارت اور ذمہ دار شہریت کو فروغ دینا ہے تاکہ پاکستان کے متنوع تعلیمی نظام میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لائی جا سکے۔








