ٹیم میں جگہ بنانے کے لئے طویل انتظار نے مزید مضبوط بنایا ،جیکب ڈفی

کولمبو۔12فروری (اے پی پی):نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر جیکب ڈفی 31 برس کی عمر میں اپنے پہلے ورلڈ کپ کا تجربہ بھرپور انداز میں انجوائے کر رہے ہیں اور ایک شاندار سال کے بعد مسلسل کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔ آئی سی سی کے مطابق جیکب ڈ فی نے 2025 میں نیوزی لینڈ کے لیے 81 وکٹیں حاصل کر کے سر رچرڈ ہیڈلی کا چار دہائیوں پرانا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ …

کولمبو۔12فروری (اے پی پی):نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر جیکب ڈفی 31 برس کی عمر میں اپنے پہلے ورلڈ کپ کا تجربہ بھرپور انداز میں انجوائے کر رہے ہیں اور ایک شاندار سال کے بعد مسلسل کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔ آئی سی سی کے مطابق جیکب ڈ فی نے 2025 میں نیوزی لینڈ کے لیے 81 وکٹیں حاصل کر کے سر رچرڈ ہیڈلی کا چار دہائیوں پرانا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بھی انہوں نے افغانستان اور یو اے ای کے خلاف فتوحات میں اہم وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔جیکب ڈفی کو 26 برس کی عمر میں انٹرنیشنل ڈیبیو کا موقع ملا تھا، جب انہوں نے پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ میں 4 وکٹیں لے کر پلیئر آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے طویل انتظار نے انہیں مزید مضبوط بنایا۔جیکب ڈفی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کئی مواقع پر وہ ٹیم سے باہر رہے، متعدد اے ٹورز کیے، مگر جب مسلسل مواقع ملے تو یہی ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ ان کے مطابق مستقل مزاجی سے کھیلنے سے انہیں یقین ہوا کہ وہ اس سطح پر کھیلنے کے اہل ہیں۔ جیکب ڈفی نے کہا کہ ایک کھلاڑی کے لیے خود کو یہ ثابت کرنا کہ وہ واقعی اس معیار کا ہے، بہت بڑا احساس ہوتا ہے۔جنوبی جزیرے کے علاقے لمزڈن میں پیدا ہونے والے جیکب ڈفی نے کرکٹ کی بنیادی تربیت اپنے والد کی تیار کردہ پچ پر بڑے بھائیوں کے خلاف بولنگ کرتے ہوئے حاصل کی۔

ان کا ماننا ہے کہ چھوٹا بھائی ہونے کی حیثیت سے انہیں تیزی سے سیکھنے کا موقع ملا۔ جیکب ڈفی کا کہنا ہے کہ ٹیم کی سب سے بڑی طاقت باہمی ہم آہنگی ہے۔ وہ ایک دوسرے کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور خاص طور پر بائیں ہاتھ کے بیٹرز کے خلاف آؤٹ سوئنگ بہتر بنانے میں کائل جیمیسن ان کی مدد کر رہے ہیں۔انہوں نے 2015 ورلڈ کپ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف کین ولیمسن کا آخری گیند پر چھکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیمی فائنل جیسے لمحات آج بھی شائقین کو یاد ہیں۔ ان کے مطابق ورلڈ کپ کسی بھی کھلاڑی کے کیریئر کا عروج ہوتا ہے اور وہ اس لمحے کا حصہ بن کر بے حد پُرجوش ہیں۔