کورٹینا۔13فروری (اے پی پی):میلانوکورٹینا سرمائی اولمپکس 2026میں جنوبی کوریا کی 17 سالہ چوئی گااون نے دفاعی چیمپئن کلوئی کم کو پیچھے چھوڑ کر طلائی تمغہ جیت لیا۔بی بی سی کے مطابق اٹلی میں میلانوکورٹینا سرمائی اولمپکس 2026کے انتہائی دلچسپ مقابلے جاری ہیں۔ ویمنز سنو بورڈ ہاف پائپ کے فائنل نے ایک عہد کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی جھلک پیش کی، جب چوئی گااون نے اپنے ملک جنوبی …
سرمائی اولمپکس 2026ویمنزسنو بورڈ ہاف پائپ فائنل، جنوبی کوریا کی چوئی گااون نے تاریخ بدلتے ہوئے طلائی تمغہ جیت لیا

مزید خبریں
کورٹینا۔13فروری (اے پی پی):میلانوکورٹینا سرمائی اولمپکس 2026میں جنوبی کوریا کی 17 سالہ چوئی گااون نے دفاعی چیمپئن کلوئی کم کو پیچھے چھوڑ کر طلائی تمغہ جیت لیا۔بی بی سی کے مطابق اٹلی میں میلانوکورٹینا سرمائی اولمپکس 2026کے انتہائی دلچسپ مقابلے جاری ہیں۔ ویمنز سنو بورڈ ہاف پائپ کے فائنل نے ایک عہد کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی جھلک پیش کی، جب چوئی گااون نے اپنے ملک جنوبی کوریا کی نمائندگی کرتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کرلیا۔
امریکی سٹارکلوئی کم مسلسل تیسرا اولمپک گولڈ جیتنے کے مشن پر تھیں جو مکمل نہ ہوسکا،ایک ایسا کارنامہ جو سنو بورڈنگ کی تاریخ میں پہلے کبھی انجام نہیں دیا گیا۔ لیکن فائنل میں فیصلہ کن لمحہ 17 سالہ چوئی گا اون کے نام رہا، جنہوں نے اپنی آخری کوشش میں 90.25 پوائنٹس سکور کر کے سب کو حیران کر دیا،یہی وہ سکور تھا جو دفاعی چیمپئن کلوئی کم کو کوالیفکیشن میں سرفہرست لایا تھا، مگر فائنل میں وہ اسے بہتر نہ بنا سکیں۔چوئی گا اون نے یہ کارنامہ اس وقت انجام دیا جب وہ پہلی رن میں برفانی کنارے سے ٹکرا کر بری طرح گریں اور کچھ دیر تک بے حس و حرکت پڑی رہیں۔
شدید برف باری کے درمیان انہوں نے خود کو سنبھالا اور تیسری رن میں جادوئی کارکردگی دکھاتے ہوئے میدان مار لیا۔ ان کے کوچ خوشی سے آبدیدہ ہو گئے۔فتح کے بعد چوئی گااون نے کہا کہ یہ کہانی خوابوں میں ہی دیکھی جا سکتی ہے۔ پہلی رن کے بعد میں رو پڑی تھی اور سوچ رہی تھی شاید مقابلہ چھوڑ دوں، لیکن دل میں آواز آئی کہ تم یہ کر سکتی ہواور یہی سوچ مجھے آگے لے گئی۔دوسری جانب 25 سالہ امریکی دفاعی چیمپئن کلوئی کم کے لیے اولمپکس کی تیاری مثالی نہ تھی۔ گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ٹریننگ کے دوران کندھا اتر جانے کے باوجود وہ بریس پہن کر میدان میں اتریں۔ 8 مرتبہ ایکس گیمز چیمپئن کلوئی کم نے پہلی رن میں 88.00 پوائنٹس لے کر سبقت حاصل کی تھی، مگر آخری رن میں گرنے کے باعث انہیں اپنے کیریئر میں پہلی بار اولمپک سلور پر اکتفا کرنا پڑا۔
جاپان کی مٹسوکی اونو نے 85.00 پوائنٹس کے ساتھ کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔کلوئی کم نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ مجھے خود پر فخر ہے۔ تیسرا گولڈ جیتنے کی بہت باتیں ہو رہی تھیں، مگر میرے لیے یہاں تک پہنچنا ہی بڑی کامیابی ہے۔ نو سال قبل پیونگ چانگ میں ایک ٹیسٹ ایونٹ کے دوران کلوئی کم اور چوئی گااون کی پہلی ملاقات ہوئی تھی تب کلوئی کم بھی 17 برس کی تھیں اور اپنے پہلے اولمپک گولڈ کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ کلوئی کم اور ان کے والد نے چوئی گا اون کی صلاحیت کو پہچانتے ہوئے انہیں امریکا میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے میں مدد دی تھی۔ اب وہی شاگرد اولمپک پوڈیم پر استاد کے پہلو میں کھڑی تھیں








