واشنگٹن۔13فروری (اے پی پی):امریکی حکام نے گزشتہ ماہ سٹار لنک کے 6 ہزار ٹرمینلز ایران سمگل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی جنوری میں ایران میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران کی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق سٹار لنک ٹرمینلز کی یہ کھیپیں اس وقت ایران سمگل کی گئیں جب ایرانی حکام نے معاشی مشکلات اور کرنسی …
امریکی حکام کا گزشتہ ماہ سٹار لنک کے 6 ہزار ٹرمینلز ایران سمگل کرنے کا اعتراف

مزید خبریں
واشنگٹن۔13فروری (اے پی پی):امریکی حکام نے گزشتہ ماہ سٹار لنک کے 6 ہزار ٹرمینلز ایران سمگل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی جنوری میں ایران میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران کی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق سٹار لنک ٹرمینلز کی یہ کھیپیں اس وقت ایران سمگل کی گئیں جب ایرانی حکام نے معاشی مشکلات اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث پیدا ہونے والے بدامنی کے دوران بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ بندکر دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے حالیہ مہینوں میں تقریباً 7 ہزار سٹار لنک ٹرمینلز خریدے، جن میں سے زیادہ تر جنوری میں خریدے گئے۔
سینئر حکام نے ایران میں انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق موجودہ اقدامات کے لیے مختص فنڈز کو سیٹلائٹ سسٹم کی خریداری کے لیے ری ڈائریکٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان ہزاروں ٹرمینلز کی ایران میں سمگلنگ سے آگاہ تھے، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر اس منصوبے کی منظوری دی تھی یا نہیں اور وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔تہران نےامریکا پر مظاہروں کو بھڑکانے کا الزام لگایا ہے، تاہم امریکہ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر ایرانیوں کو مظاہرے جاری رکھنے کی ترغیب دی تھی اور بدامنی کے دوران کہا تھا کہ مدد راستے میں ہے۔ایران میں سٹار لنک ٹرمینلز کا مالک ہونا غیر قانونی ہے اور اس پر کئی سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں اور کارکنوں کا اندازہ ہے کہ ہزارو ں ایرانی سرکاری فائر والز کو نظرانداز کرنے اور بیرونی معلومات تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے یہ نظام استعمال کر رہے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں مظاہروں کے دوران تقریباً 3 کروڑ ایرانیوں نے امریکی فنڈڈ وی پی این سروسز استعمال کیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال جون میں امریکا اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے 12 روزہ مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے دوران، حکام کا اندازہ تھا کہ 20 فیصد ایرانی اب بھی امریکی حمایت یافتہ وی پی این کے ذریعے محدود آن لائن رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ ان کا ادارہ ایرانی شہریوں کو انٹرنیٹ تک رسائی میں مدد کے لیے متعدد ٹیکنالوجیز کی حمایت کرتا ہے اوراس حوالے سے صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔








