اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ وزیراعظم کا مالیات تک رسائی اقدام محض چند سکیموں کا مجموعہ نہیں بلکہ نچلی سطح پر معیشت کو فعال بنانے کے لیے ہمہ جہت ڈھانچہ جاتی اصلاحی قدم ہے۔ جمعہ کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم شہبازشریف کے وژن کے تحت مالیات تک رسائی اقدام محض چند سکیموں کا مجموعہ نہیں …
مالیات تک رسائی اقدام محض چند سکیموں کا مجموعہ نہیں بلکہ نچلی سطح پر معیشت کو فعال بنانے کے لیے ہمہ جہت ڈھانچہ جاتی اصلاحی قدم ہے،خرم شہزاد
اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ وزیراعظم کا مالیات تک رسائی اقدام محض چند سکیموں کا مجموعہ نہیں بلکہ نچلی سطح پر معیشت کو فعال بنانے کے لیے ہمہ جہت ڈھانچہ جاتی اصلاحی قدم ہے۔ جمعہ کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم شہبازشریف کے وژن کے تحت مالیات تک رسائی اقدام محض چند سکیموں کا مجموعہ نہیں بلکہ نچلی سطح پر معیشت کو فعال بنانے کے لیے ہمہ جہت ڈھانچہ جاتی اصلاحی قدم ہے، سرمایہ صرف اوپری طبقات میں گردش کرتا رہے تو پائیدار ترقی ممکن نہیں،اس وژن میں مالی شمولیت کوئی خیرات نہیں بلکہ معاشی حکمت عملی کاحصہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ کی قیادت اور وزارت خزانہ کی سرپرستی ونگرانی میں حکومت نے نیا مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دیاہے جو بینکوں، ٹیکنالوجی، رسک شیئرنگ کے طریقہ ہائے کار اورشہریوں تک رسائی کو ایک مربوط نظام میں جوڑتا ہے، سکلز امپیکٹ بانڈز کے تحت صرف تربیت نہیں بلکہ روزگار کی صلاحیت اور مالی اعانت بھی فراہم کی جارہی ہے، سستی رہائش اقدام کے تحت متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اثاثہ جاتی ملکیت میں توسیع کی جا رہی ہے، چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعہ ماحول دوست نقل و حرکت اور نوجوانوں کی کاروباری صلاحیت کو فروغ دیاجارہاہے،فین ریپلیسمنٹ پروگرام کے تحت بجلی کے زیادہ استعمال کے اوقات میں کمی، بلوں میں کمی اور آن بل فنانسنگ کے ذریعے توانائی کی بچت کوفروغ دیا جارہاہے،ایم ایس ایم ای اور ایس ایم ای فنانس میں توسیع کے ذریعہ روزگار پیدا کرنے والوں کے لیے رسمی قرضوں تک رسائی کویقینی بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ زراعت کے شعبہ پرخصوصی توجہ دی گئی ہے کیونکہ یہ شعبہ قوم کو خوراک فراہم کرنے کے علاوہ دیہی روزگار کی بنیاد اورغذائی تحفظ کا ستون ہے۔زراعت لاکھوں افراد کا ذریعہ معاش ہے تاہم دہائیوں تک چھوٹے کسان جو اس شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ، مالیاتی نظام سے عملاً باہر رہے اوربڑے قرض لینے والوں کو ترجیح ملتی رہی ، اس کے نتیجہ میں پسماندہ علاقے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی ہدایت واضح تھی کہ رسمی مالیات سب سے چھوٹے کسان تک پہنچنی چاہیے اور سبسڈی کے طور پر نہیں بلکہ منظم اور پائیدار سرمائے کی صورت میں کسانوں کی مالی اعانت کویقینی بنایا جائے۔
خرم شہزادنے کہاکہ زرخیر۔ای محض قرض کی سکیم نہیں بلکہ قومی سطح پر زرعی قرض کی ترسیل کے نظام کی ازسرنو تشکیل ہے، اس پروگرام کو تین سالہ تبدیلی پروگرام کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، پروگرام کے تحت 7 لاکھ 50 ہزار نئے چھوٹے کسانوں کو رسمی مالیاتی نظام میں شامل کیا جائےگا،300 ارب روپے کا اضافی زرعی کریڈٹ پورٹ فولیو تشکیل دیا جائےگا جو پیداواری صلاحیت سے منسلک اور منظم قرض دہی پر مبنی ہوگا ، اس مقصد کے لیے وزارت خزانہ نے 10 فیصد فرسٹ لاس کوریج فراہم کی ہے، وزارت خزانہ نے 30 ارب روپے کا خودمختار حکومتی رسک کور فراہم کیا تاکہ بینکوں کے خطرات کم کیے جا سکیں، وزارت خزانہ نے 7.5 ارب روپے آپریشنل معاونت کے لیے مختص کیے ہیں تاکہ نئے قرضہ لینے والے افراد تک رسائی کی حوصلہ افزائی ہو۔
خرم شہزادنے کہاکہ 2.5ٹریلین روپے کے زرعی قرضوں کی ریکارڈ تقسیم ہوئی،جاری مالی سال کی پہلی ششماہی میں 1.4ٹریلین روپے کے قرضے فراہم کئے گئے ہیں، رسمی مالیاتی نظام میں تقریباً 30 لاکھ قرضہ لینے والے افراد شامل کئے گئے،خصوصی طور پرزرخیز۔ای پروگرام کے تحت 33 ہزار سے زائد کسان ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ ہوئے، 22 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور تقریباً 8 ہزار کسانوں کو بینکوں نے قرضے جاری کرنے کی منظوری دی ہے، اب تک قرضہ کی حد3.5 ارب روپے سے زائد ہے، ملک بھر کے 20 سے زائد بینک اس پروگرام میں شامل ہیں،صوبوں میں وینڈر نیٹ ورک کی توسیع بھی جاری ہے اوراہم بات یہ ہے کہ چھوٹے کسان خود آگے بڑھ کر رسمی مالیاتی نظام میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔









