وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے پیر کے روز اسلام آباد دریائے سواں کنارے اور گردونواح میں گکھڑ دور سے وابستہ تاریخی ورثے کے اہم مقامات کا افتتاح کرتے ہوئے انہیں ملکی و غیر ملکی سیاحوں، محققین اور طلبہ کے لیے کھول دیا۔ افتتاح کیے جانے والے مقامات میں تقریباً 450 سال قدیم مائی قمرو مسجد، 350 سال قدیم مقبرہ سلطان مقرب خان اور تقریباً …
اسلام آباد کے مغل دور کے قدیم تاریخی ورثے سیاحوں کیلئے کھول دیئے گئے، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے پیر کے روز اسلام آباد دریائے سواں کنارے اور گردونواح میں گکھڑ دور سے وابستہ تاریخی ورثے کے اہم مقامات کا افتتاح کرتے ہوئے انہیں ملکی و غیر ملکی سیاحوں، محققین اور طلبہ کے لیے کھول دیا۔ افتتاح کیے جانے والے مقامات میں تقریباً 450 سال قدیم مائی قمرو مسجد، 350 سال قدیم مقبرہ سلطان مقرب خان اور تقریباً ایک ہزار سال قدیم پھروالہ مقبرہ شامل ہیں۔وزارت قومی ورثہ و ثقافت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ تاریخی مقامات یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست (Tentative List) میں شامل ہیں، جو ان کے تحفظ، عالمی سطح پر تعارف اور مستقبل میں عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور ان مقامات کو ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے اہم ثقافتی و تاریخی مقامات کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر نے ان تاریخی مقامات کو یونیسکو کی عارضی فہرست میں شامل کرانے کے لیے غیر معمولی کوششیں کیں۔ منصوبے کے لیے تقریباً 54 ملین روپے کا پی سی ون منظور کر کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کیا گیا، جبکہ منصوبے پر 2022 سے گزشتہ تقریباً تین برس سے کام جاری تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب، سکیورٹی گارڈز تعینات اور مالی و باغبانوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جبکہ مرمت، بحالی، تحفظ، لینڈ سکیپنگ اور دیگر ترقیاتی کام بھی کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مقامات تک رسائی بہتر بنانا اب بھی ایک اہم ضرورت ہے، خصوصاً تاریخی مقامات تک جانے والی سڑک کی مناسب تعمیر اور بحالی ضروری ہے۔اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ پوٹھوہار کے گکھڑ خطے کی تاریخ، ثقافت اور شناخت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کی جانب سے باغ جوگیاں اور گردونواح میں موجود تاریخی مقامات جن میں مائی قمرو مسجد، مقبرہ سلطان مقرب خان، پھروالہ قلعہ اور روات قلعہ شامل ہیں اور انہوں نے ان مقامات کی مرمت و بحالی کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر خوشی اور حیرت ہوئی کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں اتنا وسیع اور شاندار تاریخی و ثقافتی ورثہ موجود ہے جبکہ عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسلام آباد کی تاریخ اور ترقی کا آغاز صرف 1960 کی دہائی میں وفاقی دارالحکومت کے قیام کے بعد ہوا۔
وفاقی وزیر نے وزارت قومی ورثہ و ثقافت اور محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوٹھوہار کے ان چار اہم تاریخی مقامات کو یونیسکو کی عالمی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کرانا ایک اہم کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت پاکستان کی جانب سے گکھڑ عوام کی تاریخ، قربانیوں اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی جانب پہلا بڑا قدم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیسکو کی باقی شرائط پوری ہونے کے بعد یہ مقامات عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل کریں گے اور دنیا بھر سے سیاحوں اور محققین کو اپنی جانب متوجہ کریں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پھروالہ قلعہ کے لیے پی سی ٹو بھی تیار کر لیا گیا ہے، جسے فنڈز مختص ہونے کے بعد منظور کرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مائی قمرو مسجد اور مقبرہ سلطان مقرب خان پر بھی تحفظ اور خوبصورتی کے کام کیے گئے ہیں۔ جب ان مقامات پر کام شروع کیا گیا تو ان کی حالت انتہائی خراب تھی، رسائی کے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے اور بیشتر علاقہ جھاڑیوں سے ڈھکا ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر نے مناسب حد بندی کر کے تقریباً 48 کنال اراضی واگزار کرائی، جو مختلف مقامی افراد کے قبضے میں تھی۔ واگزار کرائی گئی اراضی پر باڑ لگانے، لینڈ سکیپنگ اور باغ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے بیٹھنے اور دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مائی قمرو سے منسوب ایک تاریخی مقبرہ منہدم ہونے کے قریب تھا جسے خصوصی تحفظاتی اقدامات کے ذریعے محفوظ اور بحال کیا گیا جبکہ اس کی چار دیواری کو اصل شکل میں برقرار رکھا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دستیاب بجٹ سے گکھڑ قبائل سے منسوب بعض تاریخی قبروں کی بھی بحالی کی گئی ہے تاہم مقام کے مزید تحفظ اور خوبصورتی کے لیے اضافی وسائل اور اقدامات درکار ہیں جن میں بخاری خاندان سے منسوب تاریخی قبور اور دیگر آثار قدیمہ کا تحفظ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ان تاریخی مقامات کو درپیش بڑے مسائل میں سے ایک رسائی کا مسئلہ ہے۔ مقامی افراد اور سیاحوں کے لیے تقریباً دو کلومیٹر طویل راستہ موجود ہے تاہم اس کی حالت خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیسکو کی عارضی فہرست میں شامل ہونے کے بعد متعلقہ حکام سے وزارت کی درخواست پر اس راستے کو باقاعدہ کارپٹڈ سڑک میں تبدیل کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بہتر سڑک کی سہولت سے ملکی و غیر ملکی سیاح ان تاریخی مقامات تک آسانی سے پہنچ سکیں گے اور خطے میں ثقافتی سیاحت کے فروغ میں نمایاں مدد ملے گی۔اورنگزیب خان کھچی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان ملک کے تاریخی ورثے کے تحفظ، یونیسکو کی باقی ماندہ شرائط مکمل کرنے اور پوٹھوہار کے خطے کو تاریخ، آثار قدیمہ اور ثقافتی سیاحت کے اہم مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔







