اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او)کے زیراہتمام انسداد دہشت گردی (سی ٹی)، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام (سی ایف ٹی) اور پرتشدد انتہا پسندی کے انسداد (سی وی ای) کے لیے پارلیمانی شمولیت اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بڑھانے کے بارے میں دو روزہ قومی پارلیمانی مکالمہ کا اختتام جمعہ کو یہاں ایک جامع قرارداد کی متفقہ منظوری پر ہوا …
ایس ایس ڈی او کے زیراہتمام انسداد دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کیلئے پارلیمانی شمولیت بارے قومی پارلیمانی مکالمہ اختتام پذیر
اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او)کے زیراہتمام انسداد دہشت گردی (سی ٹی)، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام (سی ایف ٹی) اور پرتشدد انتہا پسندی کے انسداد (سی وی ای) کے لیے پارلیمانی شمولیت اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بڑھانے کے بارے میں دو روزہ قومی پارلیمانی مکالمہ کا اختتام جمعہ کو یہاں ایک جامع قرارداد کی متفقہ منظوری پر ہوا جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پارلیمانی نگرانی، ادارہ جاتی انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ قانونی و آپریشنل صلاحیتوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی جائے۔ایس ایس ڈی او اور برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقد کیے گئے اس تاریخی مکالمے نے پارلیمنٹیرینز، سرکاری حکام، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو اجتماعی طور پر ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کا جائزہ لینے اور قابل عمل پالیسی ردعمل تجویز کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔

مندوبین نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں انسداد دہشت گردی (سی ٹی)، انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت (سی ایف ٹی) اور انسداد پرتشدد انتہا پسندی (سی وی ای) کے لیے وقف پارلیمانی کمیٹیوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا جو ادارہ جاتی جمہوری نگرانی اور شمولیت کی طرف ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ افتتاحی سیشن کے مقررین نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ جمہوری نگرانی،طویل جدوجہد سے جیتے ہوئے سکیورٹی فوائد کو مستحکم کرنے میں کمیونٹی کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ نیشنل کائونٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر جواد احمد ڈوگر نے کہا کہ پاکستان نے ایک مضبوط قانونی اور آپریشنل فریم ورک تیار کیا ہے۔ابھرتے ہوئے نئے پیچیدہ خطرات کے لیے ایجنسیوں کے درمیان قریبی تعاون اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
برطانوی ہائی کمیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے سلامتی اور انصاف کے مشیر الاسڈیر گرانٹ نے انسداد دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف کوششوں میں پاکستان کی نمایاں پیش رفت کا اعتراف کیا اور برطانیہ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ تعاون، صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی شراکت کے ذریعے پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے پالیسی کی تشکیل اور عمل درآمد کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ، ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی پر مشتمل اجتماعی کارروائی ناگزیر ہے۔

انھوں نے کہا کہ مضبوط پارلیمانی شمولیت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی، دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہا پسندی کا موثر طریقے سے مقابلہ کرنے کی کلید ہے۔مکالمے کے دوران پینل مباحثوں میں پارلیمانی نگرانی اور مشغولیت کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ شرکا نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ قانون سازی کا فریم ورک موجود ہے، وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر پارلیمانی کمیٹیوں کو سی ایف ٹی، سی ٹی اور سی وی ای پالیسیوں اور بجٹ کی موثر جانچ پڑتال کو یقینی بنانے کے لیے بہتر تکنیکی مدد، سکیورٹی بریفنگ تک باقاعدہ رسائی اور واضح طور پر بیان کردہ مینڈیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
مقررین نے زور دیا کہ نگرانی کے طریقہ کار کو انفرادی قیادت یا غیر رسمی طریقوں پر انحصار کرنے کے بجائے ادارہ جاتی ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹرینز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مقامی کمیونٹیز تک رسائی اور بیداری پیدا کریں تاکہ کمیونٹی کی موثر شمولیت اور کمیونٹی انٹیلی جنس کو یقینی بنایا جا سکے ۔ شرکا نے ارکان پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ قرارداد کو باضابطہ طور پر وفاقی و صوبائی حکومتوں، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو غور و خوض کیلئے پیش کریں۔
اختتامی سیشن میں قانون و انصاف کے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے اہم سٹیک ہولڈرز کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر بلانے پر ایس ایس ڈی اور برطانوی ہائی کمیشن کی تعریف کی۔وزیر مملکت نے کہا کہ یہ بات چیت دہشت گردی کے خلاف آئینی بنیادوں پر جامع کارروائی کی جانب ایک تبدیلی کے قدم کی نشاندہی کرتی ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اور جمہوری نقطہ نظر کے لیے پرعزم ہے۔









