پشاور۔ 13 فروری (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے ہینڈبال کے نامور کھلاڑی حضرت حسین نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی، گورنر ہاؤس پشاور ترجمان کے مطابق گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والی ملاقات میں انہوں نے گورنر کو اپنی کھیلوں کی کامیابیوں اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ حضرت حسین نے بتایا کہ انہوں نے قومی سطح پر 14 گولڈ میڈلز حاصل کیے ہیں جبکہ بین الاقوامی مقابلوں …
خیبرپختونخوا کے ہینڈبال کے نامور کھلاڑی حضرت حسین کا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات
پشاور۔ 13 فروری (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے ہینڈبال کے نامور کھلاڑی حضرت حسین نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی، گورنر ہاؤس پشاور ترجمان کے مطابق گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والی ملاقات میں انہوں نے گورنر کو اپنی کھیلوں کی کامیابیوں اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔
حضرت حسین نے بتایا کہ انہوں نے قومی سطح پر 14 گولڈ میڈلز حاصل کیے ہیں جبکہ بین الاقوامی مقابلوں میں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی اہم کامیابیوں میں 2014 بیچ گیمز، تھائی لینڈ میں کانسی کا تمغہ، 2016 سیف گیمز بھارت میں چاندی کا تمغہ، 2016 ایشین بیچ گیمز ویتنام میں کانسی، 2017 دبئی ایشین بیچ ہینڈبال چیمپئن شپ میں چاندی، 2013 ساؤتھ ایشین چیمپئن شپ فیصل آباد میں سونے کا تمغہ، 2019 سیف گیمز نیپال میں گولڈ میڈل اور 2025 کامن ویلتھ چیمپئن شپ مالدیپ میں سونے کا تمغہ شامل ہیں۔
حضرت حسین نے گورنر کو بتایا کہ ان شاندار کامیابیوں کے باوجود انہیں صوبائی حکومت کی جانب سے نہ تو کوئی باقاعدہ سرپرستی ملی، نہ ہی خاطر خواہ پذیرائی یا مالی معاونت فراہم کی گئی، جس کے باعث انہیں اپنے کھیل کے سفر میں متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ایسے باصلاحیت کھلاڑی، جو صوبے اور ملک کا نام روشن کرتے ہیں، انہیں مناسب سرپرستی اور وسائل میسر نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے قابل فخر کھلاڑیوں کو نہ صرف تسلیم کیا جانا چاہیے بلکہ انہیں ہر ممکن سہولیات ، حوصلہ افزائی اور مالی معاونت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ گورنر نے یقین دلایا کہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو ان کا جائز حق دلانے اور کھیلوں کے فروغ کے لیے متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی تاکہ حضرت حسین جیسے محنتی اور باہمت کھلاڑی مستقبل میں بھی پاکستان اور خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرتے اور اسکا نام روشن کرتے رہیں۔









