میونخ سکیورٹی کانفرنس میونخ سرکس میں تبدیل ہو چکی ہے،ایرانی وزیر خارجہ

تہران۔15فروری (اے پی پی):ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میونخ سکیورٹی کانفرنس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میونخ سکیورٹی کانفرنس محض ایران کے بارے میں گفتگو پر توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے میونخ سرکس میں تبدیل ہو چکی ہے۔ العربیہ کے مطابق عباس عراقچی نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے کہ میونخ سکیورٹی کانفرنس جو …

تہران۔15فروری (اے پی پی):ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میونخ سکیورٹی کانفرنس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میونخ سکیورٹی کانفرنس محض ایران کے بارے میں گفتگو پر توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے میونخ سرکس میں تبدیل ہو چکی ہے۔ العربیہ کے مطابق عباس عراقچی نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے کہ میونخ سکیورٹی کانفرنس جو عموماً اپنی سنجیدگی کے لیے جانی جاتی ہے، اب محض ایران کے بارے میں گفتگو پر توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے میونخ سرکس میں تبدیل ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ٹرائیکا یعنی برطانیہ، فرانس اور جرمنی اب غیر اہم اور بے اثر ہو چکے ہیں۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران آئندہ ہفتے جنیوا میں جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں۔ادھر خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق دو امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کا حکم دیا تو امریکی فوج ایران کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی مسلسل کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔

یہ ممکنہ تصادم دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں دیکھی گئی کشیدگی سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر نے چند روز قبل واضح کیا تھا کہ انہوں نے تہران کو اپنے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تقریباً ایک ماہ کی مہلت دی ہے، ورنہ بہت برے نتائج برآمد ہوں گے۔دوسری جانب ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری معاملے تک محدود ہیں اور میزائلوں کا معاملہ ملکی خودمختاری کا مسئلہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔