لاہور۔15فروری (اے پی پی):سابق صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ اہم معدنیات اور اسٹریٹجک دھاتوں کے حصول کے لیے عالمی سطح پر کاوشیں آئندہ دنوں میں شدید تر ہونے والی ہیں کیونکہ بڑی معیشتیں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور صاف توانائی کے منصوبوں کے لیے اپنی سپلائی چین محفوظ بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔اتوار کہ یہاں جاری اپنے ایک بیان میں انہوں …
پاکستان کو بدلتے عالمی نظام میں مقام حاصل کرنے کیلئے بروقت اقدامات کرنا ہوں گے، افتخار علی ملک

مزید خبریں
لاہور۔15فروری (اے پی پی):سابق صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ اہم معدنیات اور اسٹریٹجک دھاتوں کے حصول کے لیے عالمی سطح پر کاوشیں آئندہ دنوں میں شدید تر ہونے والی ہیں کیونکہ بڑی معیشتیں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور صاف توانائی کے منصوبوں کے لیے اپنی سپلائی چین محفوظ بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔اتوار کہ یہاں جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ لیتھیم، کوبالٹ، نکل، نایاب زمینی عناصر (ریئر ارتھ) اور تانبہ جدید صنعتی ترقی کی بنیاد بن چکے ہیں۔
یہ معدنیات الیکٹرک گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی کے ذخیرہ نظام، سیمی کنڈکٹرز اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کو توانائی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے گرین انرجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب تیزی سے بڑھنے کے باعث ان معدنیات کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی طاقتوں کے درمیان نئی جغرافیائی و معاشی کشمکش جنم لے رہی ہے۔
افتخار علی ملک نے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک، خصوصا جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاکستان کو اس بدلتے ہوئے منظرنامے سے فائدہ اٹھانے کے لیے دور اندیش پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور شفاف ریگولیٹری نظام ذمہ دار غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معدنی وسائل سے مالا مال ممالک اس وقت اسٹریٹجک شراکت داریوں اور تجارتی مذاکرات کا مرکز بن چکے ہیں، تاہم بغیر منصوبہ بندی کان کنی، ماحولیاتی تباہی اور ویلیو ایڈیشن کی کمی ایسے ممالک کو طویل المدتی فوائد سے محروم کر سکتی ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ اہم معدنیات کی یہ عالمی دوڑ صرف وسائل تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی برتری اور معاشی استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے، لہذا جنوبی ایشیا خصوصا پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی نظام میں اپنا جائز مقام حاصل کرنے کے لیے اجتماعی اور بروقت اقدامات کرنا ہوں گے۔








