اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):دہشت گردی، اس کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف پارلیمانی خدمات اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بڑھانے کے حوالے سے پہلے قومی پارلیمانی مکالمے کا انعقاد کیاگیا جس میں شرکاء نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور اسمبلیوں کی جانب سے مسلسل اور مربوط کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اس دو روزہ مکالمے کا اختتام ایک …
دہشت گردی، اس کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف پارلیمانی خدمات اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بڑھانے کے حوالے سے پہلے قومی پارلیمانی مکالمے کا انعقاد
اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):دہشت گردی، اس کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف پارلیمانی خدمات اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بڑھانے کے حوالے سے پہلے قومی پارلیمانی مکالمے کا انعقاد کیاگیا جس میں شرکاء نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور اسمبلیوں کی جانب سے مسلسل اور مربوط کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اس دو روزہ مکالمے کا اختتام ایک جامع قرارداد کی متفقہ منظوری کے ساتھ ہوا جس کا مقصد پارلیمانی نگرانی کو مضبوط کرنا، ادارہ جاتی انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن کو منظم کرنا اور سیکیورٹی کے ابھرتے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قانونی اور آپریشنل صلاحیتوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کرنا ہے۔
یہ سنگ میل مکالمہ سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) اور برٹش ہائی کمیشن کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں اراکین پارلیمنٹ، سرکاری افسران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے افراد کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا تاکہ ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجوں کا مشترکہ جائزہ لیا جائے اور قابل عمل پالیسی ردعمل تجویز کیے جائیں۔شرکاء نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف خصوصی پارلیمانی کمیٹیوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا،
جو ادارہ جاتی جمہوری نگرانی اور مصروفیات کی طرف ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔افتتاحی سیشن میں مقررین نے دہشت گردی کی تمام اشکال کے خلاف پاکستان کے عزم کی تصدیق کی اور جمہوری نگرانی، حکومتی اقدامات اور کمیونٹی کی مصروفیات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ سیکیورٹی کو مستحکم کیا جا سکے۔خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کُنڈی نے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ قومی چیلنج ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اتحاد کوئی اختیاری چیز نہیں بلکہ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قیادت کرنی چاہیے اور کمیونٹیز کو شامل کرنا چاہیے۔
نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر جواد احمد ڈوگر نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے ایک مضبوط قانونی اور آپریشنل فریم ورک تیار کیا ہے، لیکن ابھرتے ہوئے اور تیزی سے پیچیدہ ہوتے خطرات کے لیے قریبی انٹر ایجنسی تعاون اور بہتر ادارہ جاتی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔برٹش ہائی کمیشن کی جانب سے سیکیورٹی اور جسٹس کے کونسلر الاسڈیئر گرانٹ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کوششوں میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کا اعتراف کیا اور برطانیہ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف فریم ورک کو تعاون، صلاحیت کی تعمیر اور ادارہ جاتی شراکت داری کے ذریعے مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے پالیسی سازی اور نفاذ کے درمیان خلا کو پر کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ، ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کی مشترکہ کارروائی نہ صرف مطلوبہ ہے بلکہ ناگزیر ہے۔پارلیمانی مصروفیات اور ادارہ جاتی کوآرڈینیشن کو مضبوط کرنا دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور پرتشدد انتہا پسندی کا موثر مقابلہ کرنے کی کلید ہے۔مکالمے کے دوران پینل مباحثوں کا مرکز پارلیمانی نگرانی اور مصروفیات کے میکانزم کو مضبوط کرنے پر تھا۔ شرکاء نے کہا کہ اگرچہ قانونی فریم ورک موجود ہیں، لیکن وفاقی اور صوبائی سطح پر پارلیمانی کمیٹیوں کو تکنیکی سپورٹ، سیکیورٹی بریفنگز تک باقاعدہ رسائی اور واضح مینڈیٹس کی ضرورت ہے تاکہ سی ٹی، سی ایف ٹی اور سی وی ای کی پالیسیوں اور بجٹ کی موثر جانچ پڑتال یقینی بنائی جا سکے۔مقررین نے زور دیا کہ نگرانی کے میکانزم کو انفرادی قیادت یا غیر رسمی طریقوں پر منحصر نہیں بلکہ ادارہ جاتی بنانا چاہیے۔
اراکین پارلیمنٹ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ مقامی کمیونٹیز میں آگاہی پیدا کی جا سکے اور موثر کمیونٹی مصروفیات اور کمیونٹی انٹیلی جنس کو یقینی بنایا جا سکے۔مکالمہ ایک سات نکاتی قرارداد کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور پر تشدد کارروائیوں کے خلاف خصوصی پارلیمانی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے،ادارہ جاتی انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن فریم ورکس،قانونی فریم ورکس کو اپ ڈیٹ کرنا اور منصفانہ ٹرائل کو یقینی بناتے ہوئے تیز رفتار پراسیکیوشن کی کوششیں کی جائیں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تربیت اور وسائل کی تقسیم کے ذریعے صلاحیت کی تعمیر میں مسلسل سرمایہ کاری ہونی چاہیے۔
اراکین پارلیمنٹ کے ذریعے حلقہ انتخاب کی سطح پر مقامی اسٹیک ہولڈرز اور کمیونٹیز کی مصروفیات یقینی بنائی جائیں۔قراردادمیں مزید مطالبہ کیا گیا کہ ڈیجیٹل اور غیر رسمی مالیاتی چینلز پر سخت ریگولیشن، وفاقی و صوبائی پالیسی میں ہم آہنگی لاکر اس کو بہتر بنانا، مالی معاونت اور روک تھام کی حکمت عملیوں کو قومی اور صوبائی ترقی اور سیکیورٹی منصوبوں میں مرکزی حیثیت دینا اور سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ تعمیری مصروفیات اور وقتاً فوقتاً عوامی رپورٹنگ کے ذریعے شفافیت کو بڑھانا ضروری ہے۔شرکاء نے اراکین پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قرارداد کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو غور و خوض اور فالو اپ کے لیے باقاعدہ طور پر منتقل کریں۔









