بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کی آبی سلامتی، غذائی پیداوار اور توانائی کے استحکام کیلئے خطرہ بن سکتی ہے،آبی ماہرین

پشاور۔ 15 فروری (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بھوک اور فاقہ کشی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جبکہ ملک کے لائیو سٹاک اور زراعت کے شعبوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین نے عالمی بینک پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے ضامن کے طور پر فاشسٹ مودی حکومت کو اسے برقرار …

پشاور۔ 15 فروری (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بھوک اور فاقہ کشی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جبکہ ملک کے لائیو سٹاک اور زراعت کے شعبوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین نے عالمی بینک پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے ضامن کے طور پر فاشسٹ مودی حکومت کو اسے برقرار رکھنے پر مجبور کرے۔ یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ معاشیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر زلاکت ملک نے قومی خبر رساں ادارے "اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے بہاؤ میں حالیہ غیر معمولی کمی سے خاص طور پر آزاد کشمیر اور پنجاب کے صوبوں میں زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2025 میں پاکستان میں دریائے چناب کے ہیڈ مرالہ پر پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی جہاں سطح 870 کیوسک تک گر گئی جو کہ 10 سالہ کم ترین سطح (4,000 سے 4,400 کیوسک) سے بھی نمایاں طور پر کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی روکنا یا اس میں رکاوٹ ڈالنا بین الاقوامی قانون کے تحت ایک سنگین جرم ہے اور اقوام متحدہ اور عالمی بینک کو بھارت کی ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ ڈاکٹر زلاکت خان کے مطابق وزارت آبی وسائل کی 8 سے 13 دسمبر 2025 تک کے سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں واقع بگلیہار ڈیم ت پانی ذخیرہ کیا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے مرالہ پر بہاؤ کم ہوا،انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے نہ صرف فصلیں بلکہ ڈیری کی پیداوار بھی متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور یہ اقدام لاکھوں لوگوں کو بھوک کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی سے گندم اور چاول سمیت 40 فیصد فصل متاثر ہوگی اور یہ پاکستان میں لائیوسٹاک کے سنگین خطرہ بنے گا۔

یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عدنان سرور خان نے بھارت کے اس اعلان کی مذمت کی کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یکطرفہ اقدام پاکستان کی آبی سلامتی، غذائی پیداوار اور توانائی کے استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے ضامن کے طور پر عالمی بینک پر زور دیا کہ وہ فاشسٹ مودی حکومت کو اس طرح کے غیر قانونی اقدام سے روکے،انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا کوئی بھی یکطرفہ اقدام عالمی قانونی فریم ورکس، کنوینشنز، معاہدات اور عالمی بینک کی ضمانت اور مستقل عدالت برائے ثالثی(پی سی اے) کے فیصلے کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ عالمی بینک کی ضمانت سے 1960 کے معاہدے کے تحت تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کے حقوق تسلیم شدہ ہیں اور کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس پورے خطے میں تقریباً 300 ملین لوگوں کی کفالت کرتا ہے اور پاکستان کو پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کا خلل زراعت، پن بجلی کی پیداوار اور ذرائع معاش کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جو توانائی کے بلیک آؤٹ کے علاوہ 245 ملین سے زائد لوگوں کو بھوک اور فاقہ کشی کا شکار بنا سکتا ہے جس سے سنگین سیکیورٹی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے نظام کے ساتھ پاکستان کا بڑا آبی انفراسٹرکچر بشمول تربیلہ ڈیم، زیر تعمیر دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا انحصار زیادہ تر دریا کے بلا تعطل بہاؤ پر ہے، اگر پانی کی سپلائی میں کمی کی گئی تو تربیلہ غازی بھروتھہ جیسی اہم تنصیبات اور جناح، چشمہ، تونسہ، گدو اور سکھر سمیت بڑے بیراجوں کو آپریشنل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے اس سے خطے کے لاکھوں لوگوں کے لیے توانائی کا بحران پیدا ہونے کا امکان ہے۔

دریائے سندھ پر تعمیر کیا گیا تربیلہ ڈیم دنیا کے بڑے ڈیموں میں سے ایک ہے اور پاکستان کے لیے آبپاشی کے پانی اور بجلی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر عدنان سرور نے کہا کہ 1960 کے معاہدے کے بعد شروع ہونے والے انڈس بیسن پراجیکٹ کے نتیجے میں زراعت اور گھریلو استعمال کے لیے پانی کی فراہمی کے انتظام کے لیے دریائے جہلم پر منگلا ڈیم کی تعمیر عمل میں آئی اور اس تناظر میں سندھ طاس معاہدہ بہت اہم ہے، 1070 میگاواٹ کا حامل منگلا ڈیم جو 1967میں مکمل ہوا، دریائے جہلم پر تعمیر کردہ ایک اہم ہائیڈرو پاور اور پانی ذخیرہ کرنے کی تنصیب دریائے جہلم پر پانی اور ڈیموں کے دیگر بڑے منصوبوں میں 969 میگاواٹ کا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ جو 2018 میں مکمل ہوا اور 720 میگاواٹ کا کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شامل ہے، یہ دونوں بجلی کی پیداوار اور آبپاشی کے پانی کے انتظام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

دریائے چناب کے ساتھ پانی کا انفراسٹرکچر جیسے مرالہ، کھانکی اور قادر آباد ہیڈ ورکس بھی پنجاب میں زرعی استعمال کے لیے نہروں کے بہاؤ کو منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے آزادی کے فوراً بعد پانی پر پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد بھارت کے ساتھ تنازعات سے پاک پانی کی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے۔ سابق سفیر منظور الحق نے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ 1948، 1965، 1971 کی جنگوں اور 1999 کے کارگل تنازعہ کے دوران بھی برقرار رہا جو دونوں ریاستوں کے لیے اس کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر 1960 میں پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے دستخط کردہ معاہدے کے تحت مشرقی دریا ستلج، بیاس اور راوی بھارت کو دیے گئے جبکہ مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حق میں آئے۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر رکن اور بین الاقوامی قانون کے ماہر بیرسٹر نعمان کاکا خیل نے کہا کہ معاہدے کی یکطرفہ معطلی کےلیے بھارت کے پاس کوئی قانونی بنیاد اور سفارتی حمایت نہیں. انہوں نے دی ہیگ میں مستقل عدالت برائے ثالثی (پی سی اے) کے حالیہ تاریخی فیصلے کا حوالہ دیا جس نے اس بات کی دوبارہ تصدیق کی کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک پر لازم ہے اور معطلی کے لیے کسی یکطرفہ اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔

قانونی ماہرین کے مطابق معاہدے کا آرٹیکل XII(4) صرف دونوں ریاستوں کے درمیان باہمی تحریری معاہدے کے ذریعے اسے ختم کرنے کی گنجائش فراہم کرتاہے نہ کہ کسی ریاست کی طرف سے یکطرفہ طور پر۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے میں کوئی ایسی شق موجود نہیں ہے جو یکطرفہ معطلی، التواء یا دستبرداری کی اجازت دیتی ہو۔ یہ غیر معینہ مدت کے لیے ہے اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود پابند رہتا ہے، 8 اگست 2025 کو مستقل عدالت برائے ثالثی نے فیصلہ دیا کہ بھارت کو ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے لیے معاہدے کے ڈیزائن پیرامیٹرز پر سختی سے عمل کرنا چاہیے خاص طور پر پاکستان کی طرف بہنے والے مغربی دریاؤں پر اور وہ مغربی دریاؤں پر ضرورت سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے اور ڈیم بنانے والی خصوصیات متعارف نہیں کروا سکتا جس کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا. یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر منہاس مجید خان نے خبردار کیا کیا کہ بھارت جیسی بالائی سطح پر واقع ریاست کے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی آبی قانون میں ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات کے معمول بننے سے علاقائی استحکام اور دنیا بھر میں مستقبل کے سرحدوں کے مابین پانی کے معاہدوں پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت چار جنگیں لڑ چکے ہیں اور دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان پانی پر ایک اور لڑائی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ماہرین نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سندھ طاس معاہدے جیسے بین الاقوامی معاہدوں کو نیک نیتی کے ساتھ برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری خاص طور پر عالمی بینک سے، جو اس معاہدے کا ضامن ہے، مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے کی سالمیت کو برقرار رکھنے میں فعال کردار ادا کرے اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مودی حکومت پر اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالے۔

 

مزید خبریں