اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):پاکستان ریلوےنےگزشتہ پانچ مالی سالوں کے دوران مسابقتی اور غیر مسابقتی طریقہ کار کے تحت تقریباً 14 ہزار 87 ایکڑ غیر فعال اراضی لیز پر دے کر 16957ملین روپے حاصل کیے ہیں۔وزارتِ ریلوے کے ایک عہدیدار نے اے پی پی کو بتایا کہ اس وقت غیر فعال ریلوے اراضی کو ریلوے انجینئرنگ کوڈ کے پیرا 807-ای کے مطابق تجارتی استعمال کے ذریعے آمدن کے حصول کے …
پاکستان ریلوےنے تقریباً 14 ہزار 87 ایکڑ غیر فعال اراضی لیز پر دے کر 16957ملین روپے حاصل کئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):پاکستان ریلوےنےگزشتہ پانچ مالی سالوں کے دوران مسابقتی اور غیر مسابقتی طریقہ کار کے تحت تقریباً 14 ہزار 87 ایکڑ غیر فعال اراضی لیز پر دے کر 16957ملین روپے حاصل کیے ہیں۔وزارتِ ریلوے کے ایک عہدیدار نے اے پی پی کو بتایا کہ اس وقت غیر فعال ریلوے اراضی کو ریلوے انجینئرنگ کوڈ کے پیرا 807-ای کے مطابق تجارتی استعمال کے ذریعے آمدن کے حصول کے لیے لیز پر دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمے کے پاس ملک بھر میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 68 ہزار 858 ایکڑ اراضی موجود ہے اور اسے منظم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) فریم ورک کے تحت نیشنل ریل لینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ (این آر ایل ڈی پی) کے ساتھ مربوط کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ اراضی کے ذخیرے کا بہترین اور منظم استعمال، مزید آمدن اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی تجویز ہے کہ تمام نشاندہی شدہ اراضی بالخصوص مرکزی کوریڈورز، اسٹیشنز، یارڈز، ورکشاپس اور شہری علاقوں کے قریب واقع پلاٹس کو این آر ایل ڈی پی ماسٹر پلان کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ فریم ورک کے تحت ریلوے اراضی کی باقاعدہ نقشہ بندی، درجہ بندی اور انضمام کیا جائے گا تاکہ ہم آہنگی، شفافیت اور زیادہ سے زیادہ قدر کی تخلیق کو یقینی بنایا جا سکے۔منصوبے کے تحت ریلوےاراضی کو اسٹریٹجک زوننگ کے ذریعے بنیادی آپریشنل، معاون اور اضافی تجارتی زمروں میں تقسیم کیا جائے گاجبکہ صرف غیر ضروری اراضی کو تجارتی ترقی کے لیے پیش کیا جائے گا۔
عہدیدار نے بتایا کہ کمرشلائزیشن مختلف پی پی پی ذرائع کے ذریعے کی جائے گی جن میں طویل مدتی لیز، کنسیشن، جوائنٹ وینچر اور ریونیو شیئرنگ انتظامات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اراضی کی ملکیت پاکستان ریلوے کے پاس ہی رہے گی جبکہ نجی شراکت دار سرمایہ، تکنیکی مہارت اور آپریشنل استعداد فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ این آر ایل ڈی پی کے تحت حاصل ہونے والی آمدن کو ریلوے آپریشنز کے لیےمخصوص رکھا جائے گاجس میں ٹریک کی دیکھ بھال، رولنگ اسٹاک کی تجدید، حفاظتی اقدامات اور سروس میں بہتری شامل ہے تاکہ وفاقی سبسڈی پر انحصار کم کیا جا سکے۔عہدیدار کے مطابق این آر ایل ڈی پی کے تحت مرکزی طرز حکمرانی اور نگرانی کا نظام اراضی کی قیمتوں کے تعین، بولی اور معاہدوں کے عمل کو معیاری بنائے گا، مسابقتی بولی اور آزاد آڈٹ کے ذریعے شفافیت یقینی بنائے گا اور مناسب پی پی پی رسک شیئرنگ ڈھانچے کے ذریعے خطرات میں کمی لائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آمدن کے حصول کے علاوہ اراضی کے اثاثوں کو این آر ایل ڈی پی کے ساتھ مربوط کرنے سے تجاوزات کی روک تھام، منظم شہری ترقی ،ریلوے اسٹیشنز کے اطراف مسافر سہولیات میں بہتری اور مقامی معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ مضبوط پی پی پی فریم ورک کے تحت اپنی اراضی کے تجارتی استعمال کو این آر ایل ڈی پی کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پاکستان ریلوے اپنی وسیع اراضی کو پائیدار اور مسلسل آمدن کے ذریعے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جبکہ اپنے بنیادی آپریشنل مینڈیٹ کا تحفظ بھی یقینی بنائے گا۔








