لاہور۔15فروری (اے پی پی):معروف آبی ماہر ڈاکٹر حسن عباس نے کہا ہے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے اقدام کے بعد پاکستان کو اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک و مضبوط حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے ۔ اے پی پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن عباس نے کہا کہ معاہدے میں ڈیٹا شیئرنگ اور شفافیت کے بنیادی اصول موجود ہیں، جن …
پاکستان کو اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے فعال حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ، ڈاکٹر حسن عباس

مزید خبریں
لاہور۔15فروری (اے پی پی):معروف آبی ماہر ڈاکٹر حسن عباس نے کہا ہے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے اقدام کے بعد پاکستان کو اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک و مضبوط حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے ۔ اے پی پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن عباس نے کہا کہ معاہدے میں ڈیٹا شیئرنگ اور شفافیت کے بنیادی اصول موجود ہیں، جن پر عمل نہ ہونا پاکستان کی آبی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے معاہدے کے ساختی نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت کو غیر متناسب فائدہ دیتا ہے، جیسے پانی کی یکطرفہ تقسیم، پانی کے بہا وکی رکاوٹیں، آلودگی کے لیے اجازت دینے والے نکاس کے نظام اور پاکستان کے حقوق کا محدود تحفظ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے تنازعات ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ڈیموں، بنیادی ڈھانچے، معاہدوں اور سفارت کاری کے ذریعے لڑے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر حسن عباس نے پانی کو صرف قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی اقتصادی ترقی کے لیے محرک کے طور پر دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور تجویز دی کہ دریائی نظام کے ساتھ تجارتی راہداری قائم کی جائیں، جیسے کہ عرب سمندر سے جلال آباد تک تجارتی راستہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے بلکہ بین الاقوامی فورمز پر بھارت کی ناقابل اعتمادیت اور معاہدے کی خامیوں کو اجاگر کرنا چاہیے۔








