چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی امریکہ میں اقوام متحدہ اور بین الپارلیمانی یونین کی مشترکہ پارلیمانی سماعت میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچ گئے

اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی امریکہ میں اقوام متحدہ اور بین الپارلیمانی یونین کی مشترکہ پارلیمانی سماعت میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ۔ انہوں نے اس دورہ میں پاکستان کے موقف کو بھر پور طریقہ سے اجاگر کیا اور اقوام متحدہ کے منشور اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بین الاقوامی قانون کے احترام اور طویل مدتی تنازعات کے پُرامن …

اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی امریکہ میں اقوام متحدہ اور بین الپارلیمانی یونین کی مشترکہ پارلیمانی سماعت میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ۔ انہوں نے اس دورہ میں پاکستان کے موقف کو بھر پور طریقہ سے اجاگر کیا اور اقوام متحدہ کے منشور اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بین الاقوامی قانون کے احترام اور طویل مدتی تنازعات کے پُرامن حل میں بامعنی پیشرفت کا مطالبہ کیا ہے۔

سالانہ آئی پی یو سماعت 2026 کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ساکھ کو بڑھانے کے لئے جمہوری، شفاف اور جوابدہ فیصلہ سازی ضروری ہے اورپارلیمانیں بین الاقوامی وعدوں پر قومی سطح پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں ناگزیر شراکت دار ہیں۔وفد میں سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر محمد عبدالقادر، سینیٹر سید فیصل علی سبزواری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور دیگر شامل تھے۔چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آج بھی کثیرالجہتی تعاون کا بنیادی ستون ہے اور اس کی عالمگیر رکنیت اور منشور پر مبنی مینڈیٹ عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ چیلنجز کسی ایک ملک کی تنہا کوشش سے حل نہیں ہو سکتے، اقوام متحدہ پر اعتماد کی تجدید مضبوط کثیرالجہتی تعاون پر مبنی ہونی چاہئے، اور اس کے لئے مناسب، قابلِ پیش گوئی اور پائیدار مالی وسائل فراہم کرنا ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے مینڈیٹ کو مؤثر انداز میں پورا کر سکے۔انہوں نے گزشتہ سال انٹر پارلیمانی سپیکرز کانفرنس کی سرپرستی کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ، آئی پی یو اور آئی ایس سی کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے پرعزم ہیں تاکہ مشترکہ عالمی اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔سالانہ آئی پی یو سماعت 2026 کا موضوع ”پارلیمانیں اور اقوام متحدہ: بہتر ساتھ، عوام کے لئے مؤثر خدمات“ ہے۔

اس سماعت میں امن، پائیدار ترقی، جمہوری حکمرانی، مؤثر کثیرالجہتی تعاون، اقوام متحدہ کے ”پیکٹ فار دی فیوچر” میں تعاون، اور وسیع اصلاحاتی اقدامات پر توجہ دی گئی ہے۔ چیئرمین سینیٹ، سید یوسف رضا گیلانی نے نیویارک میں انٹر پارلیمانی یونین (آئی پی یو ) کی صدر ڈاکٹر ٹولیا ایکسن اور سیکرٹری جنرل مارٹن چونگونگ سے اہم الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کی فعال، باوقار اور مؤثر پارلیمانی سفارتکاری کو اجاگر کیا گیا۔

ملاقاتوں کے دوران چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے اصولی مؤقف، جمہوری عزم اور عالمی سطح پر فعال پارلیمانی کردار کو مدلل انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان آئی پی یو کو دنیا کی پارلیمانوں کے مابین مکالمے، قانون کی حکمرانی، جامع حکمرانی اور عالمی تعاون کے فروغ کا مؤثر ترین پلیٹ فارم سمجھتا ہے اور اس فورم پر پاکستان کا کردار ہمیشہ تعمیری اور مثبت رہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے آئی پی یو کے ساتھ پاکستان کی مضبوط اور دیرینہ وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان مسلسل آئی پی یو اسمبلیوں، قائمہ کمیٹیوں اور عمومی مباحث میں فعال شرکت کر رہی ہے۔ انہوں نے تاشقند میں منعقدہ 150ویں آئی پی یو اسمبلی میں اپنی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور کثیرالجہتی تعاون جیسے اہم عالمی موضوعات پر واضح اور مؤثر مؤقف پیش کیا۔ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب اور بعد ازاں شدید موسمی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی انصاف اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کے تحت ترقی پذیر ممالک کی معاونت کرے۔عالمی امن اور انسانی حقوق پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے تنازعات کے حل کے لئے مکالمے اور سفارتکاری کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔

علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے سالانہ آئی پی یو پارلیمانی سماعت 2026 کے موقع پر اقوام متحدہ کے صدر جنرل اسمبلی اینالینا بیئربوک سے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی۔چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ کو کثیرالجہتی تعاون کے مرکزی ستون کے طور پر پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔

تنازعات کے پُرامن حل کی دیرینہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے تنازع کا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارت نے مزید عدم استحکام پیدا کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔

ان کے بقول یہ اقدام معاہدے کی شقوں اور سرحد پار آبی وسائل سے متعلق بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور معاش پر سنگین اثرات ڈال سکتے ہیں اور خطرناک مثالیں قائم کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب موسمیاتی دباؤ اور پانی کی قلت باہمی تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں کے سخت احترام کا تقاضا کرتے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے عوام بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک، جو عالمی حدت میں معمولی حصہ ڈالتے ہیں، اس کے شدید اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے اجتماعی اقدام، موسمیاتی انصاف اور مضبوط بین الاقوامی تعاون کی فوری ضرورت پر زور دیا۔سید یوسف رضا گیلانی کے اعزاز میں نیویارک میں ایک پروقار عشائیہ منعقد ہوا، جہاں سفارتکاروں، امریکی سیاسی شخصیات اور کمیونٹی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سمندر پار پاکستانیوں کو وطن ک’’متحرک ستون‘‘ قرار دیتے ہوئے جمہوری استحکام اور پارلیمانی سفارت کاری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

دریں اثنا، پاکستان پیپلز پارٹی یو ایس اے کے رہنماؤں کی جانب سے واشنگٹن میں ظہرانہ بھی دیا گیا، جہاں چیئرمین سینیٹ نے پارٹی کی جمہوری خدمات اور قیادت کے وژن پر روشنی۔ پاکستانی پارلیمانی وفد کا خیر مقدم کرتے کیا گیا ۔ آئی پی یو سالانہ سماعت میں سینئر قانون سازوں کی اعلیٰ سطحی شرکت کو بھرپور انداز میں سراہا گیا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے قابلِ تحسین کردار کی تعریف کی۔