لاہور۔16فروری (اے پی پی):محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے تحت گاڑیوں کی بائیومیٹرک تصدیق کےلئے پاک آئی ڈی ایپ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔گاڑی مالکان کو یہ جدید سہولت نادرا ٹیکنالوجیز اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اشتراک سے دی جا رہی ہے۔ جس کی بدولت اب ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی پنجاب میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے لیے ملکیت کی تصدیق آ …
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کا گاڑیوں کی بائیومیٹرک تصدیق کیلئے پاک آئی ڈی ایپ کا افتتاح،شہری رجسٹریشن اور ٹرانسفر کےلئے گھر بیٹھ کر مستفید ہو سکتے ہیں

مزید خبریں
لاہور۔16فروری (اے پی پی):محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے تحت گاڑیوں کی بائیومیٹرک تصدیق کےلئے پاک آئی ڈی ایپ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔گاڑی مالکان کو یہ جدید سہولت نادرا ٹیکنالوجیز اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اشتراک سے دی جا رہی ہے۔
جس کی بدولت اب ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی پنجاب میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے لیے ملکیت کی تصدیق آ ئن لائن سسٹم کے تحت پاک آ ئی ڈی ایپ کے ذریعے کروا سکیں گے،اب اور سیز پاکستانیوں گاڑی مالکان کو اپنی ملکیت کی تصدیق کے لیے سفارت خانے جانے کی ضرورت پیش آ ئے گی اور نہ اتھارٹی منتقل کرنے کی۔اب وہ یہ کام گھر میں بیٹھ کر موبائل ایپ کے ذریعے بائیو میٹرک اور فیس آ ئی ڈی کے ذریعے کر سکیں گے۔ایسے بزرگ افراد جن کے انگوٹھے کے نشانات معدوم یا تبدیل ہو چکے ہیں
،ان کیلئے فیس آ ئی ڈی ایک بڑی سہولت ہو گی۔پاک آ ئی ڈی ایپ کا افتتاح پیر کے روز یہاں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ڈائریکٹوریٹ آفس میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عمر شیر چٹھہ نے کیا۔اس موقع پر نادرا اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے نمائندگان بھی موجود تھے۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب عمر شیر چٹھہ نے کہا کہ محکمہ ایکسائز کو روزانہ کی بنیاد پر گاڑیوں کی بائیومیٹرک تصدیق کے حوالے سے مختلف مشکلات کا سامنا تھا،گاڑیوں کی ٹرانسفر کا عمل تاخیر کا شکار تھا۔
بالخصوص بیرونِ ملک مقیم پاکستانی گاڑی مالکان کو گاڑی کی ملکیت کی منتقلی اور بائیومیٹرک تصدیق کے لیے پاور آف اٹارنی دینا پڑتی تھی اور حلف ناموں، وزارتِ خارجہ اور پاکستانی سفارت خانوں سے تصدیق جیسے طویل اور پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔ ADR (Alternate Dispute Resolution) کے باعث بھی گاڑیوں کی ملکیت کی تبدیلی ایک بڑا مسئلہ بن چکی تھی۔
پاک آئی ڈی ایپ کے اجرا کے بعد حلف ناموں، سفارت خانوں سے تصدیق اور دیگر دستی و متبادل طریقہ کار کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے،جس سے انسانی مداخلت کا خاتمہ اور شفافیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک آ ئی ڈی ایپ کا آغاز عوامی سہولت کے میدان میں ایک بڑا اقدام ہے،کیونکہ اب پاکستان میں دور دراز علاقوں میں مقیم شہریوں اور بیرونِ ایکسائز دفاتر جانے کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی کسی ایجنٹ یا ثالث پر انحصار کرنا پڑے گا۔ اب شہری کہیں بھی موجود ہوں،اپنی فیس آئی ڈی اور بائیومیٹرک کے ذریعے گاڑی کی ملکیت کی تبدیلی کا عمل مکمل کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاک آئی ڈی ایپ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے اس وژن کی عملی مثال ہے،جس کے تحت شہریوں کو گھر بیٹھے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کی منتقلی فیس کی وصولی پہلے ہیE-Pay کے ذریعے کی جا رہی ہے،جو مکمل طور پر کیش لیس،وزٹ لیس اور پیپر لیس نظام ہے۔ملکیت کی تصدیق اور فیس کی وصولی کے بعد ٹرانسفر کا عمل 48 گھنٹوں میں مکمل کر دیا جاتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب عمر شیر چٹھہ نے بتایا نادرا کے اشتراک سے چاروں صوبوں کے گاڑی مالکان کی آن لائن تصدیق سے چاروں صوبوں کا ڈیٹا یکجا ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ ایکسائزاپنا تمام متعلقہ ڈیٹا نادرا کے ساتھ منسلک کر رہا ہے۔اس موقع پر نادرا کے چیف پراجیکٹ آفیسر رحمان قمر نے کہا کہ نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ ایک محفوظ، مستند اور جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے،جو جدید بائیومیٹرک ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک آئی ڈی ایپ نہ صرف نظام میں شفافیت لائے گی بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کرے گی اور سروس ڈیلیوری کو موثر بنائے گی۔ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب عمر شیر چٹھہ نے کہا کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے، ڈیجیٹل اصلاحات کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے لیے آئندہ بھی ایسے عوام دوست اقدامات جاری رکھے گا۔آخر میں ڈی جی ایکسائز اورچیف پراجیکٹ آفیسر نادرا کے مابین اعزازی شیلڈز کا بھی تبادلہ ہوا۔








