اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ پائیدار معاشی ترقی، غربت میں کمی اور مشترکہ خوشحالی کے مقاصدکے حصول میں انسانی سرمایہ کا کردار کلیدی نوعیت کا حامل ہے۔ یہ بات عالمی بینک نے ”بلڈنگ ہیومن کیپٹل“ کے نام سے جاری حالیہ رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی، غربت میں کمی اور مشترکہ خوشحالی کا انحصار انسانی سرمایہ پر ہے اور …
پائیدار معاشی ترقی، غربت میں کمی اور مشترکہ خوشحالی کے مقاصدکے حصول میں انسانی سرمایہ کا کردار کلیدی نوعیت کا حامل ہے، عالمی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد۔16فروری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ پائیدار معاشی ترقی، غربت میں کمی اور مشترکہ خوشحالی کے مقاصدکے حصول میں انسانی سرمایہ کا کردار کلیدی نوعیت کا حامل ہے۔ یہ بات عالمی بینک نے ”بلڈنگ ہیومن کیپٹل“ کے نام سے جاری حالیہ رپورٹ میں کہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی، غربت میں کمی اور مشترکہ خوشحالی کا انحصار انسانی سرمایہ پر ہے اور انسانی سرمایہ کی تشکیل ان مقامات پر ہوتی ہے جہاں لوگ رہتے، سیکھتے اور کام کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحت، تعلیم، مہارت اور عملی تجربہ کسی بھی قوم کی اصل دولت ہیں تاہم کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں گزشتہ پندرہ برس کے دوران صحت اور تعلیمی نتائج میں جمود اور بعض صورتوں میں تنزلی کامشاہدہ کیا گیا ہے امیر اور غریب ممالک کے درمیان آمدنی کے بڑے فرق کی بنیادی وجہ انسانی سرمائے میں اسی فرق کا ہونا ہے۔
رپورٹ میں گھر، محلہ وگردوپیش اور کام کی جگہ کوانسانی سرمایہ کی تشکیل کے بنیادی عناصرقراردیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موثر پالیسی سازی کے لیے ان تینوں کو یکجا دیکھنا ضروری ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی بچپن کی نشوونما فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔
والدین کی تعلیم، توجہ اور معاون ماحول بچوں کی تعلیمی اور ذہنی کارکردگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اس سلسلے میں غریب خاندانوں کے لیے مالی معاونت، والدین کی تربیت، معیاری ابتدائی تعلیم تک رسائی اور لڑکیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رہائشی ماحول اورگردوپیش بچوں اور نوجوانوں کے مواقع متعین کرتا ہے۔ معیاری سکول، صحت کی سہولیات، صاف پانی، محفوظ ماحول اور موثر شہری بنیادی ڈھانچہ انسانی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں جبکہ آلودگی، جرائم اور ناکافی سہولیات ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سیکھنے کا عمل تعلیم مکمل ہونے پر ختم نہیں ہوتا، عملی تربیت، اپرنٹس شپ، زرعی رہنمائی، کاروبار اور مہارتوں کی تعلیم انسانی سرمایہ کو مزید مستحکم بناتی ہے۔رپورٹ میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت بڑھانے اور نوجوانوں کو تعلیم و روزگار سے جوڑنے کے لیے ہدفی پالیسیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔








