اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صحت مصطفٰی کمال نےاسلام آباد کے نواحی علاقے تمیر کے بنیادی مرکزِ صحت کو ڈیجیٹائز کر کے ٹیلی میڈیسن سروس کا آغاز کر دیا جس کے ذریعے دور دراز علاقوں کے شہری اب ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن علاج، مشاورت اور ادویات گھر بیٹھے حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں وزارتِ صحت نے پالیسی …
وفاقی وزیر صحت نے تمیر کے بنیادی مرکزِ صحت کو ڈیجیٹائز کر کے ٹیلی میڈیسن سروس کا آغاز کر دیا،شہری اب ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن علاج، مشاورت اور ادویات حاصل کر سکیں گے، مصطفٰی کمال

مزید خبریں
اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صحت مصطفٰی کمال نےاسلام آباد کے نواحی علاقے تمیر کے بنیادی مرکزِ صحت کو ڈیجیٹائز کر کے ٹیلی میڈیسن سروس کا آغاز کر دیا جس کے ذریعے دور دراز علاقوں کے شہری اب ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن علاج، مشاورت اور ادویات گھر بیٹھے حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں وزارتِ صحت نے پالیسی سازی سے قبل صحت کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا اور بڑے ہسپتالوں کے بجائے گھروں کے قریب موجود بیسک ہیلتھ یونٹس( بی ایچ یو)کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی اختیار کی۔ اسلام آباد کی دیہی آبادی کےلئے شعبۂ صحت میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر تمیر کے بنیادی مرکزِ صحت کو ڈیجیٹائز کرتے ہوئے وہاں جدید ٹیلی میڈیسن سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت مصطفٰی کمال نے کہا کہ موجود حکومت نےصحت کے نظام میں اصلاحات کے تحت بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنے اور بنیادی مراکز صحت کو فعال بنانے پر زور دیا ہے، ہیلتھ کیئر کا مقصد صرف مریض کا علاج نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ معمولی امراض یا بلڈ پریشر جیسے مسائل کے لیے دور دراز بڑے ہسپتالوں کا رخ کرنے سے نہ صرف مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انتظامیہ پر بھی اضافی دباؤ بڑھتا ہے۔
ٹیلی میڈیسن صحت کے شعبے میں ایک حقیقی انقلاب ثابت ہو گی جس سے خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو فوری اور معیاری طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے فاصلے کی رکاوٹ ختم کرتے ہوئے علاج معالجے کو نہایت آسان بنا دیا ہے اور اب شہری اپنے علاقوں میں رہتے ہوئے ماہر ڈاکٹروں سے مشاورت حاصل کر سکیں گے۔ مصطفٰی کمال نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سینٹرز میں نہ صرف مریضوں بلکہ ڈاکٹروں کی کارکردگی کی بھی مؤثر مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ علاج کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس نظام کے ذریعے بالخصوص غریب اور کم وسائل رکھنے والے طبقات کے لیے علاج معالجے کو سستا، آسان اور قابلِ رسائی بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر ہیلتھ کیئر وہ ہے جو شہریوں کو بیماری سے محفوظ رکھے جبکہ بیماری کے بعد علاج معالجہ دراصل سِک کیئر کے زمرے میں آتا ہے، اسی تناظر میں حفاظتی ٹیکہ جات، صاف پانی کی فراہمی، بہتر ماحول اور ماں و بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بڑھتی آبادی کو ملک کے وسائل پر شدید دباؤ کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر سال نیوزی لینڈ کی آبادی کے مساوی نئی آبادی کا اضافہ کر رہا ہے جس کے باعث صحت کے نظام پر غیر معمولی بوجھ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کے لیے بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ موجودہ ہیلتھ کیئر سسٹم لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانے کے حوالے سے اپنی مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ وزیرِ صحت نے کہا کہ ماضی میں دور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی سنگین مسئلہ تھا اور پرائمری ہیلتھ کیئر کا نظام بھی مؤثر طور پر فعال نہیں تھا، تاہم جدید ٹیکنالوجی نے اس خلا کو پُر کرتے ہوئے عوام کے لیے علاج کو آسان بنا دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غریب طبقے کی بڑی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیلی میڈیسن سروسز کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت اب تمیر کے شہری جدید سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک موجود پاکستانی ڈاکٹر بھی اس نظام کے ذریعے خدمات انجام دے سکیں گے اور لندن میں بیٹھا ماہر ڈاکٹر بھی تمیر کے مریضوں کا معائنہ اور علاج کر سکے گا، مریضوں کو تجویز کردہ ادویات ان کی دہلیز تک فراہم کی جائیں گی جس سے سفر اور اخراجات دونوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ مصطفٰی کمال کے مطابق ملک میں نئے ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم نوجوان ڈاکٹروں کے لیے خدمات انجام دینے کے وسیع مواقع فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے اسے صحت کے شعبے میں خاموش انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے تحت مریضوں اور ڈاکٹروں دونوں کی جامع مانیٹرنگ کا مؤثر انتظام موجود ہے، حکومت نے سب سے پہلے صحت کے نظام اور زمینی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا جس کے بعد ایک مربوط، جدید اور مؤثر نظام تشکیل دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مرحلے میں ملک بھر میں ٹیلی میڈیسن سروسز کے دائرۂ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ ہر شہری کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزیرِ صحت نے کہا کہ دور دراز علاقوں کی بڑی آبادی مالی اور سفری مشکلات کے باعث ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پاتی جس کے نتیجے میں معمولی بیماری بھی سنگین شکل اختیار کر لیتی ہے، ٹیلی میڈیسن سسٹم کے ذریعے اب ایسے افراد کو اپنے گھروں کے قریب ہی تشخیص اور علاج کی سہولت میسر آئے گی اور بڑے ہسپتالوں پر غیر معمولی بوجھ بھی کم ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے متعدد حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں جن کا مقصد مستقبل میں مہلک امراض کی شرح کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پریونشن از بیٹر دن کیورکے اصول پر عمل کرتے ہوئے ویکسینیشن پروگرامز کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ کینسر سمیت مختلف بیماریوں سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صحت کا مضبوط نظام قومی سلامتی اور معیشت دونوں کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ وبائی امراض کی صورت میں نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں کام محض پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز علاقوں تک طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔








