صدر مملکت کے ترجمان کی کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے وفاقی محتسب کے فیصلے بارے سوشل میڈیا پر افواہوں کے حوالےسے وضاحت

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):صدر مملکت کے ترجمان نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی سے متعلق کارروائی اور کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے وفاقی محتسب کے فیصلے بارے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کے حوالے سے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ وفاقی محتسب کے حکم کے خلاف قانون کے مطابق ایک درخواستِ نظرثانی ایوانِ صدر کو موصول ہوئی ہے۔ منگل کو ایوانِ صدر کے …

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):صدر مملکت کے ترجمان نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی سے متعلق کارروائی اور کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے وفاقی محتسب کے فیصلے بارے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کے حوالے سے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ وفاقی محتسب کے حکم کے خلاف قانون کے مطابق ایک درخواستِ نظرثانی ایوانِ صدر کو موصول ہوئی ہے۔

منگل کو ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق وفاقی محتسب ادارہ اصلاحات ایکٹ 2013 کی دفعہ 14(2) کے تحت ایسی درخواست دائر ہونے پر متعلقہ حکم پر عمل درآمد 60 دن کے لیے خودکار طور پر روک دیا جاتا ہے۔ بیان کے مطابق یہ کارروائی قانون کے تقاضوں کے تحت عمل میں لائی جاتی ہے اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ متعلقہ فرد کو الزامات سے بری قرار دے دیا گیا ہے یا حتمی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مکمل سرکاری ریکارڈ متعلقہ فورم سے طلب کرلیا گیا ہے تاکہ اسے دیکھنے کے بعد معاملہ مجاز اتھارٹی کے سامنے قانون کے مطابق فیصلے کے لیے پیش کیا جاسکے۔ بیان کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں کہ ملزم کو صدر کی جانب سے بری قرار دے دیا گیا ہے یا انہیں حتمی ریلیف دے دیا گیا ہے۔

معاملہ زیرِ جائزہ ہے اور اس کا فیصلہ سختی سے قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ صدرِ پاکستان آئین اور ملکی قوانین کے مطابق ہی اقدامات کرنے کے پابند ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ عوام اور میڈیا سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں قیاس آرائی سے گریز کریں۔