سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور تنازعات کے پُرامن حل کی ایک تاریخی مثال ہے، محمد عظیم

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ڈائریکٹر ماحولیات و شہری امور محمد عظیم نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور تنازعات کے پُرامن حل کی ایک تاریخی مثال ہے، یہ معاہدہ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثیمیں طے پایا، جس کا بنیادی مقصدتقسیمِ ہند کے بعد پیدا ہونے والے آبی تنازعات …

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ڈائریکٹر ماحولیات و شہری امور محمد عظیم نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور تنازعات کے پُرامن حل کی ایک تاریخی مثال ہے، یہ معاہدہ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثیمیں طے پایا، جس کا بنیادی مقصدتقسیمِ ہند کے بعد پیدا ہونے والے آبی تنازعات کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا تھا،اس کے تحت تین مشرقی دریائو ں پر بھارت اور تین مغربی دریا ئوں کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تاکہ دونوں ممالک اپنی زرعی و معاشی ضروریات کو منظم طریقے سے پورا کر سکیں۔

منگل کو ’’اے پی پی ‘‘سےخصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کو کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ بین الاقوامی معاہداتی قانون کے تحت یہ ایک باقاعدہ،دستخط شدہ اور نافذ العمل معاہدہ ہےجس میں ترمیم یا خاتمہ صرف باہمی رضامندی سےممکن ہے،معاہدے میں تنازعات کے حل کے لیے مرحلہ وار طریقۂ کار موجود ہےجس کے تحت معاملات کو کمیشن، غیر جانبدار ماہر یا عالمی ثالثی فورم تک لے جایا جا سکتا ہے۔محمد عظیم نے کہا کہ اس معاہدے کی قانونی حیثیت مضبوط ہے اور اسے عالمی قانون اورریاستی ذمہ داریوں کا تحفظ حاصل ہے،عالمی بینک بطور ضامن ادارہ اس کی نگرانی اور تنازعات کے حل کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کا کردار رکھتا ہے۔

عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاہدے کے احترام کو یقینی بنائے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کی حوصلہ شکنی کرے کیونکہ پانی کا مسئلہ صرف دو ممالک کا نہیں بلکہ علاقائی امن اور انسانی سلامتی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔انہوں نےخبردار کیا کہ اگر اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس سے زرعی پیداوار، غذائی تحفظ،توانائی کے منصوبے اور ماحولیاتی توازن متاثر ہوگا، جبکہ عوامی سطح پر بے چینی اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایک سوال کےجواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے کسی بھی غیر قانونی یا اشتعال انگیز اقدام سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ تاہم پاکستان بین الاقوامی قانون،سفارتکاری اور پرامن حل کے اصولوں پر قائم ہے اور سمجھتا ہے کہ معاہدوں کا احترام ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔