اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں مغربی کنارے کو ’’سٹیٹ لینڈ‘‘ قرار دینے اور غیر قانونی آباد کاری کی سرگرمیوں کی الفاظ میں شدید مذمت کی ہے۔ منگل کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، مملکتِ سعودی عرب اور ریاستِ …
پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کی مقبوضہ مغربی کنارے کو ’’سٹیٹ لینڈ‘‘قرار دینے اور غیر قانونی آباد کاری کی سرگرمیوں کی مذمت

مزید خبریں
اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں مغربی کنارے کو ’’سٹیٹ لینڈ‘‘ قرار دینے اور غیر قانونی آباد کاری کی سرگرمیوں کی الفاظ میں شدید مذمت کی ہے۔
منگل کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، مملکتِ سعودی عرب اور ریاستِ قطر کے وزرائے خارجہ اسرائیل کے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو ’سٹیٹ لینڈ‘ قرار دیا گیا اور پہلی بار 1967 کے بعد زمین کی ملکیت کے اندراج اور آباد کاری کے طریقہ کار کی منظوری دی گئی۔
بیان کے مطابق یہ غیر قانونی اقدام ایک سنگین اشتعال انگیزی ہے جس کا مقصد غیر قانونی آباد کاری کو تیز کرنا، فلسطینی زمینوں پر قبضہ کرنا، اسرائیلی کنٹرول کو مستحکم کرنا اور مقبوضہ فلسطینی علاقے پر غیر قانونی اسرائیلی خود مختاری نافذ کرنا ہے جبکہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نقصان پہنچانا ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون خاص طور پر چوتھے جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں بالخصوص قرارداد نمبر 2334 کی واضح خلاف ورزی ہیں۔
بیان کے مطابق یہ فیصلہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی پالیسیوں اور طرز عمل سے پیدا ہونے والے قانونی نتائج کے بارے میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے جاری کردہ مشاورتی رائے سے بھی متصادم ہے جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقے کی قانونی، تاریخی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کے اقدامات کی غیر قانونییت پر زور دیا گیا ہے اورجبراً زمین کے حصول کی ممانعت عائد ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام قابض زمین پر کنٹرول مستحکم کرنے کےلئے نئے قانونی اور انتظامی حقائق کو مسلط کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے، اس سے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوگی، ایک آزاد اور مستحکم فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات متاثر ہوں گے اور خطے میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کو خطرہ لاحق ہوگا۔
وزرائے خارجہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ وہ تمام یکطرفہ اقدامات کی قطعی طور پر مخالفت کرتے ہیں جو مقبوضہ فلسطینی علاقے کی قانونی، آبادیاتی یا تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کےلئے کئے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پالیسیاں ایک خطرناک کشیدگی پیدا کریں گی جو فلسطینی علاقے اور وسیع خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کو مزید بڑھائیں گی۔
وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، ان خلاف ورزیوں کو روکنے کےلئے واضح اور موثر اقدامات کرے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائے اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی حفاظت کرے جن میں سب سے اہم ان کا حقِ خود ارادیت، قبضے کا خاتمہ اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔








