اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی معاشی بحالی کے کلیدی محرک کے طور پر نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ منگل کو یہاں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سازگار کاروباری ماحول کو فروغ دینے میں چیمبر کے فعال …
حکومت نوجوانوں، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم،پی ایم وائی پی کے تحت قرض کی حد بڑھا کر 3 کروڑ روپے کردی گئی، یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی میں خواتین کے لیے 35 فیصد حصہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے، رانا مشہود احمد خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی معاشی بحالی کے کلیدی محرک کے طور پر نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ منگل کو یہاں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سازگار کاروباری ماحول کو فروغ دینے میں چیمبر کے فعال کردار کو سراہا اور خواتین کاروباریوں کی مؤثر طریقے سے سپورٹ کرنے پر وومن چیمبر کی تعریف کی۔
تقریب میں خواتین میں حورین کلکشینز کی جانب سے سامان بھی تقسیم کیا گیا تاکہ وہ اپنے چھوٹے کاروبار شروع کر سکیں ۔رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کا معاشی منظر نامہ نمایاں طور پر مستحکم ہوا ہے۔ ترسیلات زر 38 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جو اب تک کی بلند ترین سطح پر ہیں اور توقع ہے کہ یہ 40 بلین ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے تیزی سے پاکستان کو ایک قابل عمل ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا ٹارگٹ آئندہ سال 2.1 ملین پاکستانیوں کو سکل ڈویلپمنٹ کے ذریعے بیرون ملک ملازمت کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔وزیر اعظم کی یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون سکیم کی کامیابی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ سکیم تین درجوں میں قرضے فراہم کرتی ہے: اسٹارٹ اپس کے لیے 5 لاکھ روپے، اگلے مرحلے کے لیے 15 لاکھ، اور اس سے اوپر کی حد جو پہلے 75 لاکھ روپے تھی اب بڑھا کر ڈھائی سے تین کروڑ روپے وپے کر دی گئی ہے۔انہوں نے نوٹ کیا کہ خواتین کی تعداد اس وقت قرض سے مستفید ہونے والوں کا 11 فیصد ہے جسے 25 فیصد تک بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان کی پہلی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی منظور کر لی گئی ہے، جس میں لیبر فورس میں کم از کم 35 فیصد خواتین کی شمولیت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تاجروں کے لیے حکومت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے ذریعے پاکستان پائیدار اقتصادی ترقی اور خوشحالی حاصل کرے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے رانا مشہود احمد خان کی نوجوانوں کی ترقی اور انسانی سرمائے میں اضافے کے لیے خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی نے پیشہ ورانہ تربیت، صنعت کاری، اور روزگار کی تخلیق بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے لیے مسلسل عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔
سردار طاہر محمود نے مزید کہا کہ ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مضبوط پبلک پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت داری ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ICCI روزگار کے مواقع کو بڑھانے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی حمایت کے لیے حکومت اور نجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر محترمہ ثمینہ فاضل نے کہا کہ موجودہ حکومت خواتین تاجروں کی مکمل حمایت کر رہی ہے اور اب یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ اس سہولت سے استفادہ کریں۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب جنہوں نے تقریب کے نظامتِ کے فرائض سرانجام دیے، نے بھی ملکی ترقی میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی۔
حورین کلیکشن کی محترمہ عمیرہ گیلانی نے ان خواتین کی کامیابی کے بارے میں بات کی جن کو انھوں نے بااختیار بنانے کے لیے سرپرستی اور رہنمائی فراہم کی۔اس موقع پر آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران محترمہ فاطمہ عظیم، ذوالقرنین عباسی، اسحاق سیال، ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور خواتین تاجروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔








