16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا ہے ، اس عرصے کے دوران 59 سرکاری بل پیش کیے گئے، 14 بل سینیٹ سے موصول ہوئے اور 46 بل منظور کیے گئے

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا ہے ، اس عرصے کے دوران 59 سرکاری بل پیش کیے گئے جبکہ 14 بل سینیٹ سے موصول ہوئے اور 46 بل منظور کیے گئے، اسی طرح 48 نجی ارکان کے بل پیش کیے گئے، 38 سینیٹ سے بھجوائے گئے جن میں سے 13 منظور ہوئے۔ ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 40 …

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا ہے ، اس عرصے کے دوران 59 سرکاری بل پیش کیے گئے جبکہ 14 بل سینیٹ سے موصول ہوئے اور 46 بل منظور کیے گئے، اسی طرح 48 نجی ارکان کے بل پیش کیے گئے، 38 سینیٹ سے بھجوائے گئے جن میں سے 13 منظور ہوئے۔ ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 40 سرکاری اور 6 نجی ایکٹ بن گئے، جس سے منظور شدہ ایکٹ کی مجموعی تعداد 46 ہو گئی۔

مزید برآں، دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 27 قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال میں قومی اسمبلی کے 11 اور تین مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے۔ ان اجلاسوں کے دوران 130 ورکنگ ڈیز مکمل کیے گئے، اجلاسوں کا مجموعی دورانیہ 237 گھنٹے 36 منٹ رہا۔ پارلیمانی نگرانی کے اختیار کے تحت 7,625 سوالات پوچھے گئے، جن میں سے 1,710 کے ایوان کے اندر وزراء نے جوابات دیے۔دوسرے پارلیمانی سال کے دوران ممبران کی جانب سے 329 توجہ دلاؤ نوٹس موصول ہوئے جن میں سے 49 ایوان میں زیرِ بحث آئے۔ علاؤہ ازیں 15 تحریک التواء جمع ہوئیں، جن میں سے 13 نامنظور کی گئیں۔

استحقاق کی 33 تحریکیں پیش ہوئیں، جن میں سے 6 متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائی گئیں، 18 زیرِ غور ہیں، 6 نامنظور جبکہ 2 واپس لے لی گئیں۔ مزید برآں، رول 259 کے تحت 263 تحاریک موصول ہوئیں، جن میں سے 4 کو آرڈر آف دی ڈے میں شامل کیا گیا اور 3 پر بحث کی گئی۔مالی سال 2025-26 کے بجٹ اجلاس کے دوران سالانہ بجٹ پر ایوان میں تفصیلی بحث کی گئی۔قومی اسمبلی کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ فنانس بل کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔

کمیٹی نے طویل غور خوض کے بعد اپنی سفارشات مرتب کیں جن کو ایوان میں پیش کیا گیا۔دوسرے پارلیمانی سال کے دوران نمایاں قانون سازی میں 27ویں آئینی ترمیم کہیں اہم بلز ایکٹ بنے۔ دوسرے پارلیمانی سال کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی کارروائی غیرجانبداری سے چلائی اور قومی اہمیت کے امور پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ وقفہ سوالات کو مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ وزارتی جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اہم عوامی نوعیت کے حامل سوالات کے جوابات موصول نا ہونے پر متعلقہ سیکرٹریز کو طلب کر کے ایوان میں جواب دینے کی ہدایت کی گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن اراکین سمیت تمام اراکینِ قومی اسمبلی کیلئے اپنے چیمبر کے دروازے کھلے رکھے اور ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے کیلئے مثبت کردار ادا کیا۔ اہم پارلیمانی فورمز بشمول ویمن پارلیمنٹری کاکس، پارلیمنٹری کاکس آن چائلڈ رائٹس، ینگ پارلیمنٹیرینز فورم، اور پارلیمنٹری ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقیاتی اہداف کو فعال بنایا گیا تاکہ جامع اور شراکتی طرزِ حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔ ان فورمز نے پالیسی مکالموں، قانون سازی ورکشاپس، عوامی مشاورت اور بین الاقوامی روابط کا انعقاد کیا، جبکہ صوبائی کاکسز کے قیام سے صوبائی سطح تک شمولیت کو مزید وسعت ملی۔

دوسرے پارلیمانی سال کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی سفارتکاری کو فعال انداز میں آگے بڑھایا۔ انہوں نے ترکیہ میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کیلئے منعقد ہونے والی پارلیمانی کانفرنس میں شرکت کی اور فلسطین پر پاکستانی موقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ مملکتِ سعودی عرب اور جمہوریہ آذربائیجان کے سرکاری دورے کیے، جنیوا میں منعقدہ چھٹی عالمی کانفرنس برائے اسپیکرز پارلیمنٹ اور انٹر پارلیمنٹری یونین کے 151ویں اجلاس میں شرکت کی، مملکتِ بحرین کا پارلیمانی وفد کے ہمراہ دورہ کیا اور اسلام آباد میں تیسرے سہ فریقی اسپیکرز کانفرنس کی میزبانی کی۔

انہوں نے دوطرفہ اور پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ کے متعدد ممالک کے پارلیمانی ہم منصبوں سے ملاقاتیں کیں۔ جمہوری عمل میں نوجوانوں کی شمولیت بڑھانے کے لیے یوتھ انٹرن شپ پروگرام کو مزید موثر بنایا گیا جس میں مختلف یونیورسٹیوں، کالجز اور سکولوں کے 20 ہزار سے زائد طلباء و طالبات نے درخواستیں دیں۔جبکہ کل 400 درخواستیں مطلوب تھیں۔انٹرن شپ پروگرام میں پارلیمانی طریقہ کار اور قانون سازی کے عملی تجربے کا موقع فراہم کیا گیا۔ مزید برآں، قومی اسمبلی کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مزید فعال بنایا گیا تاکہ عوام کو پارلیمانی سرگرمیوں تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے۔

قومی اسمبلی کے آفیشل یو ٹیوب چینل (این اے ٹی) کے ذریعے کارروائی کی براہِ راست نشریات کے آغاز سے شفافیت، رسائی اور عوامی شمولیت کو مزید تقویت ملی۔16 ویں قومی اسمبلی کے دوران پارلیمان نے بھارتی جارحیت کو دنیا بھر میں بے نقاب اور قومی سطح پر یکجہتی قائم کرنے کیلئے اہم کردار ادا کیا۔پارلیمان نے علاقائی اور عالمی سطح پر بھارت کے مکروہ چہرہ کو بے نقاب کرنے کیلئے پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دیا۔

پارلیمان نے معرکہ حق کے دوران مسلح افواج کے ساتھ قومی یکجہتی کا اظہار کیا اور مسلح افواج کے پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارتوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔16 ویں قومی اسمبلی کے دوران معرکہ حق اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ 16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مؤثر قانون سازی، فعال نگرانی، بڑھتی ہوئی شفافیت، متحرک پارلیمانی سفارتکاری اور جمہوری اقدار سے تجدیدِ عہد کا مظہر ثابت ہوا۔