ایس ڈی پی آئی کے زیراہتمام اعلی سطح کا سیمینار،قانونی ماہرین، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں کا سائبر گورننس نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):خواتین اور بچیوں کے خلاف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے تشدد میں اضافے کے پیشِ نظر قانونی ماہرین، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے سائبر گورننس نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے تشدد سے نمٹنے کےلئے ون سٹاپ کرائسس سینٹرز“ قائم کرنا ناگزیر ہے یہ …

اسلام آباد۔17فروری (اے پی پی):خواتین اور بچیوں کے خلاف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے تشدد میں اضافے کے پیشِ نظر قانونی ماہرین، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے سائبر گورننس نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

مقررین نے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے تشدد سے نمٹنے کےلئے ون سٹاپ کرائسس سینٹرز“ قائم کرنا ناگزیر ہے یہ مطالبہ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے سیمینار میں کیا گیا جس میں انکشاف کیا گیا کہ 2025 میں سائبر کرائم کی شکایات ایک لاکھ اکہتر ہزار تک پہنچ چکی ہیں جبکہ سزائوں کی شرح 3.7 فیصد ہے۔ مقررین نے خبردار کیا کہ آن لائن ہراسانی، ڈیپ فیک فحش مواد اور غلط معلومات اب صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہیں رہیں بلکہ خواتین کی ذاتی، سماجی اور پیشہ ورانہ زندگیوں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کی سینئر پالیسی ایڈوائزر ڈاکٹر رضیہ صفدر نے کہا کہ حکومت اگرچہ ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دے رہی ہے مگر آن لائن تحفظ کی کمی ”تشدد کے نئے محاذ“ کو جنم دے رہی ہے۔ انہوں نے عالمی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں 67 فیصد خواتین آن لائن غلط معلومات سے متاثر ہوتی ہیں جبکہ 66 فیصد کو سائبر ہراسانی کا سامنا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت سے بننے والی جعلی ویڈیوز اور مسخ شدہ مواد خواتین کے لئے شدید ذہنی اور سماجی نقصان کا باعث بن رہا ہے۔اقوام متحدہ کی خواتین تنظیم پاکستان کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان نے کہا کہ غیر رضامندانہ ڈیپ فیک فحش مواد کا 99 فیصد نشانہ خواتین بنتی ہیں مگر سماجی بدنامی اور واضح پالیسی کی عدم موجودگی کے باعث اکثر خواتین خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

سابق انسپکٹر جنرل پولیس اور ایس ڈی پی آئی کے وزٹنگ فیلو ڈاکٹر سید کلیم امام نے کہا کہ اگرچہ اسلام آباد میں جدید سہولتی مراکز قائم کئے گئے ہیں لیکن ملک کے بیشتر حصوں میں صنفی حساسیت کے ساتھ تفتیش کرنے کے لئے خصوصی یونٹس موجود نہیں ۔ انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ سائبر کرائم کا سراغ نہیں لگایا جا سکتا۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اکرم مغل نے بتایا کہ ریاستی وسائل پر بے پناہ دبائو ہے ،انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک افسر کو دس مقدمات دیکھنے چاہئیں جبکہ پاکستان میں ایک افسر چار سو سے زیادہ کیسز سنبھال رہا ہے۔

ڈیجیٹل عدم تحفظ کے معاشی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے سابق سفیر نغمہ ہاشمی نے کہا کہ آن لائن ہراسانی کے باعث تقریباً 15 فیصد پیشہ ور خواتین اپنی ملازمتیں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر آبادی کا نصف حصہ آن لائن سرگرمیوں سے خوفزدہ ہو تو معاشی ترقی ممکن نہیں۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام سے وابستہ ڈیجیٹل ریزیلینس کے ماہر عثمان ظفر نے بتایا کہ عوامی زندگی میں خواتین کو خاموش کرانے کےلئے صنفی پروپیگنڈا استعمال کیا جاتا ہے۔

آخر میں پینل نے ایک محفوظ ڈیجیٹل پاکستان کے لئے کئی سطحوں پر حکمتِ عملی پیش کی جس میں ٹیکنالوجی کے ذریعے خواتین کے خلاف تشدد کےلئے مخصوص اور جامع قانونی فریم ورک بنانا، تھائی لینڈ کے ماڈل پر ون سٹاپ کرائسس سینٹرز قائم کرنا، قومی نصاب میں ڈیجیٹل شہریت اور پرائیویسی کے اصول شامل کرنا اور پاکستان میں کام کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لئے انسانی حقوق کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد شامل ہے۔