غزہ میں نئی انتظامی کمیٹی کے لیے یورپی یونین کی حمایت

برسلز ۔19فروری (اے پی پی):یورپی ممالک کے بلاک یورپی یونین نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد انتظامی امور کی منتقلی کے لیے قائم کردہ انتظامی کمیٹی کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔العربیہ کے مطابق یہ بات اہم دستاویز سے معلوم ہوئی ہے۔ یہ دستاویز یورپی یونین کے سفارتی دفتر کی طرف سے تیار کی گئی ہے ۔دستاویز کے مطابق یورپی یونین غزہ کے لیے قائم کردہ نئی انتظامی کمیٹی …

برسلز ۔19فروری (اے پی پی):یورپی ممالک کے بلاک یورپی یونین نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد انتظامی امور کی منتقلی کے لیے قائم کردہ انتظامی کمیٹی کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔العربیہ کے مطابق یہ بات اہم دستاویز سے معلوم ہوئی ہے۔ یہ دستاویز یورپی یونین کے سفارتی دفتر کی طرف سے تیار کی گئی ہے ۔دستاویز کے مطابق یورپی یونین غزہ کے لیے قائم کردہ نئی انتظامی کمیٹی کے ساتھ رابطے کی کوشش میں ہے تاکہ اس کے ساتھ اشتراک عمل ہو سکے۔

یورپی یونین کی دستاویز رکن ممالک کو بھیجی گئی ہے۔اس سے پہلے 2006 کے انتخابات کے نتیجے میں ایک منتخب حکومت وجود میں آئی تھی جس کی قیادت حماس کے ہاتھ میں تھی۔ مگر اب صدر ٹرمپ کے زیر صدارت قائم امن بورڈ کی ماتحتی میں ایک انتظامی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔اس کے اتحادی غزہ میں حکومت کو انتظامی کمیٹی کی سطح سے اوپر دیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لیے غزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ اسی انتظامی کمیٹی کے زیر انتظام ہوگا اور یہ کمیٹی امن بورڈ کے ماتحت ہوگی۔یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اگلے چند دنوں میں اور متوقع طور پر 23 فروری کو اس بارے میں باقاعدہ طور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اس سے قبل واشنگٹن میں امن بورڈ کا اجلاس بھی فیصلے کر چکا ہوگا۔ یوں غزہ کے بارے میں اہم فیصلے فلسطینیوں کی سطح پر نہیں امریکہ اور یورپی یونین میں کیے جائیں گے۔یورپی ممالک کی اکثریت نے غزہ بورڈ کی رکنیت قبول نہیں کی ہے۔ تاہم یورپی کمیشن کی سفارتی نمائندہ ایک مبصر کے طور پر امن بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گی۔ اس طرح یورپی یونین کے ممالک کو امن بورڈ کے اخراجات کے لیے خطیر رقم بھی نہیں دینا ہوگی اور اس کا جزوی سا حصہ بھی رہ سکیں گے۔