سٹاک ہوم۔20فروری (اے پی پی):سویڈن نے یوکرین کے لیے تقریباً 1.4 بلین ڈالر مالیت کے بڑے فوجی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے جس کا زیادہ تر حصہ فضائی دفاع، طویل فاصلے کی صلاحیت اور گولہ بارود پر خرچ کیا جائے گا۔شنہوا کے مطابق سویڈش حکومت نے کہا ہے کہ اس پیکج کا سب سے بڑا حصہ نئے تیار کردہ قلیل فاصلے کے فضائی دفاعی نظام کی خریداری ہے جس …
سویڈن کا یوکرین کے لیے 1.4 بلین ڈالر مالیت کے بڑے فوجی امدادی پیکج کا اعلان

مزید خبریں
سٹاک ہوم۔20فروری (اے پی پی):سویڈن نے یوکرین کے لیے تقریباً 1.4 بلین ڈالر مالیت کے بڑے فوجی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے جس کا زیادہ تر حصہ فضائی دفاع، طویل فاصلے کی صلاحیت اور گولہ بارود پر خرچ کیا جائے گا۔شنہوا کے مطابق سویڈش حکومت نے کہا ہے کہ اس پیکج کا سب سے بڑا حصہ نئے تیار کردہ قلیل فاصلے کے فضائی دفاعی نظام کی خریداری ہے جس کی مالیت 4.3 بلین کرونر ہے۔ اس نظام میں توپ اور میزائل سسٹمز، انٹرسیپٹرز، سینسرز، الیکٹرانک وارفیئر اجزا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز شامل ہوں گے تاکہ بڑے علاقوں کو فضائی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 3 بلین کرونر گولہ بارود، تربیت اور متعلقہ معاونت کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جن میں بڑی مقدار میں گولوں اور فضائی دفاعی راونڈز کی خریداری شامل ہے۔اس کے علاوہ 5.6 بلین کرونر طویل فاصلے کی صلاحیت، اختراعی اقدامات، معاشی تعاون اور شہری دفاع کے لیے مختص کیے جائیں گے، اس میں یوکرین کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے حوالے سے تعاون میں توسیع اور بغیر عملے والی سطحی کشتیوں سے متعلق منصوبوں کی مالی معاونت بھی شامل ہے۔
سویڈن اپنی مسلح افواج سے کچھ سازوسامان بھی فراہم کرے گا جن میں ریکوائل لیس رائفلز، متعلقہ آلات اور گولہ بارود شامل ہیں، جبکہ متبادل خریداری اور نقل و حمل کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔سویڈن کے وزیر دفاع پال جانسن نے کہا ہے کہ یہ یوکرین کے لیے سویڈن کا 21 واں فوجی امدادی پیکج ہے جس میں نئے تیار کردہ فضائی دفاعی نظام، طویل فاصلے کی صلاحیت اور گولہ بارود پر توجہ دی گئی ہے تاکہ یوکرین کی فوری آپریشنل ضروریات پوری کی جا سکیں۔
بیان کے مطابق روس یوکرین تنازع کے آغاز سے اب تک سویڈن کی مجموعی فوجی امداد تقریباً 103 بلین کرونر تک پہنچ چکی ہے۔دوسری جانب روس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو اسلحہ کی فراہمی تنازع کے حل کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کے لیے اسلحہ لے جانے والی کسی بھی کھیپ کو روسی فوج جائز ہدف تصور کرے گی۔








