اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):ملکی معیشت کے مختلف اشاریوں سے بہتری کی عکاسی ہورہی ہے جنوری کے دوران برآمدات میں سالانہ اور ماہانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ، درآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے میں خاطر خواہ سکڑائواس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرونی شعبہ بتدریج توازن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر، جاری کھاتوں کافاضل ہونا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ معاشی …
ملکی معیشت کے اشاریوں سےبہتری کی عکاسی ،بڑی صنعتوں کی پیداوار میں تیزی، نجی شعبے کو قرضوں کی بڑھتی ہوئی فراہمی، زرعی و صنعتی سرگرمیوں میں وسعت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):ملکی معیشت کے مختلف اشاریوں سے بہتری کی عکاسی ہورہی ہے جنوری کے دوران برآمدات میں سالانہ اور ماہانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ، درآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے میں خاطر خواہ سکڑائواس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرونی شعبہ بتدریج توازن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر، جاری کھاتوں کافاضل ہونا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ معاشی استحکام کو تقویت دے رہا ہے، جبکہ مالیاتی محاذ پر بجٹ خسارے میں نمایاں کمی اور محصولات میں اضافہ حکومتی نظم و ضبط کا عکاس ہے۔
دوسری جانب بڑی صنعتوں کی پیداوار میں تیزی، نجی شعبے کو قرضوں کی بڑھتی ہوئی فراہمی، زرعی و صنعتی سرگرمیوں میں وسعت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اس بات کی علامت ہیں کہ معیشت کا پہیہ دوبارہ رفتار پکڑ چکاہے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت اقدامات، ٹیرف میں کمی اور برآمدی شعبے کے لیے مراعات نے نجی شعبے کی قیادت میں نمو کے امکانات کو مزید روشن کیا ہے۔ مجموعی طور پر اعداد و شمار اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ معاشی استحکام کی بنیاد مضبوط ہو رہی ہے اور حکومت استحکام سے ترقی کی سمت سفر کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔
سٹیٹ بینک اورپاکستان بیوروبرائے شماریات کے اعدادوشمارکے مطابق جنوری میں ملکی برآمدات کاحجم 3.056ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ سال جنوری کے 2.951ارب ڈالرکے مقابلہ میں 3.5فیصدزیادہ ہے،دسمبرکے مقابلہ میں جنوری میں برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر34.8فیصدکی نمو ہوئی ۔جنوری میں درآمدات پر5.813ارب ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجوگزشتہ سال جنوری 5.869ارب ڈالرکے مقابلہ میں ایک فیصدکم ہے۔دسمبرکے مقابلہ میں جنوری میں درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر4.4فیصدکی کمی ہوئی۔دسمبرمیں درآمدات پر6.081ارب ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا۔جنوری میں ملک کے تجارتی خسارہ کاحجم 2.757ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جو دسمبر کے 3.813ارب ڈالرکے مقابلہ میں 27.7فیصد اورگزشتہ سال جنوری کے 2.918ارب ڈالرکے مقابلہ میں 5.5فیصدکم ہے۔
مالی سال کے پہلے 7ماہ میں ملکی برآمدات کاحجم 18.190ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 19.583ارب ڈالرکے مقابلہ میں 7.1 فیصدکم ہے،مالی سال کے پہلے 7ماہ میں درآمدات پر40.260ارب ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 36.771ارب ڈالرکے مقابلہ میں 9.5فیصدزیادہ ہے۔اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے 7ماہ میں تجارتی خسارہ کاحجم 22.070ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 17.188ارب ڈالرکے مقابلہ میں 28.4فیصدزیادہ ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق تجارتی خسارہ میں اضافہ کی بنیادی وجہ خام مال کی درآمدات میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے بڑی صنعتوں کی پیداواری سرگرمیوں میں بتدریج تیزی آرہی ہے، دسمبر میں بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم آئی) میں ماہانہ بنیادوں پر9.3فیصد اورمالی سال کی پہلی ششماہی میں سالانہ بنیادوں پر4.8فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا حالیہ حکومتی اقدامات ، ٹیرف میں کمی ،برا مدی مالیات میں اضافہ اور بر آمدی ترقیاتی سرچارج کے خاتمے کے بعد جاری مالی سال میں نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی نمو کےلئے حالات انتہائی سازگارہوچکے ہیں۔
سمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ سے بیرونی کھاتوں کومتوازن بنانے میں معاونت مل رہی ہے،سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران سالانہ بنیاد پر 11.3 فیصد اضافہ اور جنوری میں ترسیلات زر میں سالانہ بنیاد پر 15.4 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ جولائی سے جنوری تک کی مدت میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا حجم 23.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیاگیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہے، جنوری میں سمندر پار پاکستانیوں نے 3.5 ارب ڈالر زرمبادلہ ملک ارسال کیا جو گزشتہ سال جنوری کے مقابلے میں 15.4 فیصد زیادہ ہے۔
اسی رحجان کی وجہ سے جنوری 2026میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن جنوری میں 121ملین ڈالرفاضل رہا، دسمبرمیں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 265ملین ڈالر اورگزشتہ سال جنوری میں 393ملین ڈالر ریکارڈکیاگیاتھا، مالی سال کے پہلے 7ماہ میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 1.074ارب ڈالرریکارڈکیاگیا،گزشتہ مالی سال کے پہلے 7ماہ میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن 564ملین ڈالرفاضل رہاتھا،اسی طرح مالی سال کے پہلے 7ماہ میں بنیادی توازن(پرائمری بیلنس) 5.333ارب ڈالرریکارڈکیاگیاہے جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 5.545ارب ڈالرتھا۔
وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کی پہلی ششماہی میں مجموعی بجٹ خسارہ 10 سال کی کم ترین سطح 542ارب روپے ریکارڈ کیا گیا،پہلی ششماہی میں مجموعی بجٹ خسارہ 542ارب روپے ریکارڈکیاگیاہے جومالی سال 2016کے بعدکم ترین سطح ہے،گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں مجموعی بجٹ خسارہ کاحجم 1.538ٹریلین روپے ریکارڈکیاگیاتھا،رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں مجموعی محصولات کاحجم 10.008ٹریلین روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 9.227ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 8فیصدزیادہ ہے،
مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں مجموعی محصولات کاحجم 4.115ٹریلین روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 3.642ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 13فیصدزیادہ ہے،پہلی ششماہی میں ایف بی آرکے محصولات کاحجم 6.161ٹریلین روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 5.625ارب روپے کے مقابلہ میں 10فیصدزیادہ ہے،مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں ایف بی آرکی محصولات کاحجم 3.276ٹریلین روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 3.062ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 7فیصدزیادہ ہے،
اعدادوشمارکے مطابق مجموعی اخراجات کاحجم 7.030ٹریلین روپے ریکارڈکیاگیاہے جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 8.201ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 14فیصدکم ہے،پہلی ششماہی میں اخراجات جاریہ کاحجم 6.836ٹریلین روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 7.702ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 11فیصدکم ہے، مارک اپ ادائیگیوں کاحجم پہلی ششماہی میں 3.564ٹریلین روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 5.142ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 31فیصدکم ہے
،دفاعی اخراجات کاحجم 1.045ٹریلین روپے،گرانٹس کاحجم 880ارب روپے،زرتلافیوں کاحجم 663ٹریلین روپے،پنشن 504ارب روپے اورسول گورنمنٹ ودیگرکے اخراجات کاحجم 381ارب روپے رہا،وفاقی بجٹ کاخسارہ 637ارب روپے اورمجموعی بجٹ خسارہ 542ارب روپے ریکارڈکیاگیا،گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں وفاقی بجٹ کاخسارہ 2.313ٹریلین روپے جبکہ مجموعی بجٹ خسارہ 1.538ٹریلین روپے ریکارڈکیاگیاتھا۔
حکومت نے ملک میں کاروباراورسرمایہ کاری کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری رکھاہواہے، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری ہے اس کے نتیجہ میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ ہورہاہے ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاری پر حاصل منافع کی بیرون ملک منتقلی میں جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ میں سالانہ بنیادوں پر 22.4فیصد ہواہے مالی سال کے پہلے سات ماہ میں غیرملکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں نے منافع کی مد میں 1.626ارب ڈالر اپنے متعلقہ ممالک منتقل کئے ،
یہ شرح گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 22.4فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں بیرونی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں نے منافع کی مد میں 1.328ارب ڈالر اپنے متعلقہ ممالک ارسال کئے تھے۔ جنوری میں غیرملکی سرمایہ کاروں نے منافع کی مد میں 118.9ملین ڈالر منتقل کئے جوگزشتہ سال جنوری کے 102.9ملین ڈالر کے مقابلے میں 15.6فیصد زیادہ ہیں۔ دسمبرکے مقابلے میں جنوری میں منافع کی منتقلی میں ماہانہ بنیادوں پر33.6فیصد کا اضافہ ہوا۔
دسمبرمیں غیرملکی سرمایہ کاروں نے منافع کی مد میں 88.8ملین ڈالر اپنے ممالک منتقل کئے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے نجی شعبہ کی قیادت میں نموکی پالیسی کو آگے بڑھانے کیلئے نجی شعبہ کوسہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کاسلسلہ تیزکردیا ہے، حکومت کو قرضوں کی فراہمی کی بجائے زیادہ تر قرضہ نجی شعبہ کی سرگرمیوں کی طرف منتقل ہورہا ہے۔
جنوری میں نجی شعبہ کو فراہم کردہ مجموعی قرضہ جات کا حجم7فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 10.6ٹریلین روپے تک پہنچ گیاہے ،نجی شعبے کے کاروبار کو قرضوں کی فراہمی میں سالانہ بنیادوں پر5.3فیصد کا اضافہ ہوا، زرعی قرضوں میں اضافے کی شرح 36فیصد ریکارڈ کی گئی ، موٹر ساز ی کے شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 62فیصد ، ہول سیل اینڈ ریٹیل میں 41فیصد اور ٹرانسپورٹ و سٹوریج شعبہ جا ت کو قرضوں کی فراہمی میں سالانہ بنیادوں پر55فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے زرعی شعبے میں سے کپاس کی فصل کےلئے قرضہ جات 217فیصد اضافے کے بعد 19.8ارب روپے، گندم 23فیصد اضافے کے بعد 33.9ارب روپے، چاول 114فیصد کے اضافے کے بعد 31.1ار ب روپے ، پولٹری 24.3ارب روپے اور گنے کی فصل کےلئے فراہم کردہ قرضہ جات 47فیصد اضافے کے بعد 8.9ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ قرضہ جات میں پھیلاﺅ مختلف شعبوں تک پھیل رہا ہے
، زراعت ، مینوفیکچرنگ، تجارت، لاجسٹک اور دیگرمتعلقہ شعبوں کوقرضہ جات کی فراہمی سے اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی آرہی ہے ۔ حکومت کلی معیشت کے استحکام کے بعد زرمبادلہ کے بفرز کومضبوط بنارہی ہے، حکومتی اقدامات کی وجہ سے :زرمبادلہ کے ملکی ذخائرمیں جاری مالی سال کے دوران 2.106ارب ڈالرکا نمایاں اضافہ ہواہے ، جاری جاری مالی سال کے آغازپرزرمبادلہ کے ملکی ذخائر کا حجم 19.239ارب ڈالرتھا جس میں سٹیٹ بینک کے پاس 14.506ارب ڈالراورکمرشل بینکوں کے پاس 4.763ارب ڈالرتھے،چھ فروری کوختم ہونے والے ہفتے میں زرمبادلہ کے ملکی ذخائرکاحجم 21.375ارب ڈالرریکارڈگیا جس میں سٹیٹ بینک کے پاس 16.178ارب ڈالراورکمرشل بینکوں کے پاس 5.197ارب ڈالرتھے۔اس طرح جاری مالی سال کے آغازسے اب تک سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں 1.672ارب ڈالر اورکمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں 434ملین ڈالرکااضافہ ہوا۔








